اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 20

جیسا کہ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مهينا ( سورة الاحزاب: آیت ۵۸) یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی اور اس نے ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے۔یہ حکم ختم نہیں ہو گیا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔آپ کی تعلیم ہمیشہ زندگی دینے والی تعلیم ہے۔آپ کی شریعت ہر زمانہ کے مسائل حل کرنے والی شریعت ہے۔آپ کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے۔تو اس لئے یہ جو تکلیف ہے یہ آپ کے ماننے والوں کو جو تکلیف پہنچائی جارہی ہے کسی بھی ذریعہ سے اس پر بھی آج صادق آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات زندہ ہے وہ دیکھ رہی ہے کہ کیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔پس دنیا کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے۔دنیا کو نہیں بتانا ہو گا کہ جو اذیت یا تکلیف تم پہنچاتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی سزا آج بھی دینے کی طاقت رکھتا ہے۔اس لئے اللہ اور اس کے رسول کی دل آزاری سے باز آؤ۔لیکن جہاں اس کے لئے اسلام کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے بارہ میں دنیا کو بتانا ہے وہاں اپنے عمل بھی ہمیں ٹھیک کرنے ہوں گے۔کیونکہ ہمارے اپنے عمل ہی ہیں جو دنیا کے منہ بند کریں گے اور یہی ہیں جو دنیا کا منہ بند کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے رپورٹ میں بتایا تھا وہاں ایک مسلمان عالم پر یہی الزام منافقت کا لگایا جارہا ہے کہ ہمیں کچھ کہتا ہے اور وہاں جا کے کچھ کرتا ہے، ابھارتا ہے۔وہ شاید میں نے رپورٹ پڑھی نہیں۔تو ہمیں اپنے ظاہر اور باطن کو ، اپنے قول و فعل کو ایک کر کے یہ عملی نمونے دکھانے ہوں گے۔جھنڈے جلانے یا توڑ پھوڑ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی عزت قائم نہیں ہو سکتی مسلمان کہلانے والوں کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ قطع نظر اس کے کہ احمدی ہیں یا نہیں ،شیعہ ہیں یا سنی ہیں یا کسی بھی دوسرے مسلمان فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جب حملہ ہو تو وقتی جوش کی بجائے ، جھنڈے جلانے کی بجائے، توڑ پھوڑ کرنے کی بجائے، ایمبیسیوں 20