اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 11
چاہیئے۔اس میں سیرت کے قریباً تمام پہلو بیان ہو گئے ہیں یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ضروری پہلو بیان ہو گئے ہیں۔اور پھر اپنے ذوق اور شوق اور علمی قابلیت کے لحاظ سے دوسری سیرت کی کتابیں بھی پڑھیں اور دنیا کو مختلف طریقوں سے، رابطوں سے ،مضامین سے، پمفلٹ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان سے آگاہ کریں۔اللہ تعالیٰ اس اہم کام اور فریضہ کو سرانجام دینے کی ہر احمدی کو تو فیق عطا فرمائے اور دنیا کو عقل عطا فرمائے کہ اس کا ایک عقلمند طبقہ خود اس قسم کے بیہودہ اور ظالمانہ مذاق کرنے والوں یا دشمنیوں کا اظہار کرنے والوں کا رڈ کرے تاکہ دنیا بدامنی سے بھی بچ سکے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی بچ سکے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔احمدی کے رد عمل کا طریق از خطبه جمعه فرموده ۲۸ ستمبر ۲۰۱۲ء) جب ۲۰۰۶ ء میں ڈنمارک میں رحمۃ للعالمین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں انتہائی الظ، توہین آمیز اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے کارٹونوں کی اشاعت کی گئی تو حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ ایسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کی پرزور مذمت میں خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔اس وقت مسلمان ممالک میں جبکہ اس کے خلاف احتجاج کے طور پر توڑ پھوڑ کی جارہی تھی اور اپنے ہی ملکوں میں آگئیں لگا کر اپنا ہی نقصان کیا جار ہا تھا تو حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کی بالخصوص اور مسلمانوں کو بالعموم تا کیدی نصائح کرتے ہوئے رو عمل کی صحیح راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا شاید بلکہ یقینی طور پر سب سے زیادہ اس حرکت پر ہمارے دل چھلنی ہیں لیکن ہمارے رد عمل کے طریق اور ہیں۔یہاں میں یہ بھی بتا دوں کہ کوئی بعید نہیں کہ ہمیشہ کی طرح وقتاً فوقتاً یہ ایسے شوشے آئندہ بھی چھوڑتے رہیں، کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جائیں جس سے پھر مسلمانوں کی دل آزاری ہو۔اور ایک مقصد یہ بھی اس کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ قانونا مسلمانوں پر خاص 11