اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 5

ہمیں چاہئے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور پھر وہ دعوی ان کا جڑ پکڑ گیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا۔اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا اور اگر ہم ان کے مذہب کی کتابوں میں غلطیاں پائیں یا اس مذہب کے پابندوں کو بدچلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہئے کہ وہ سب داغ ملالت ان مذاہب کے بانیوں پر لگاویں۔کیونکہ کتابوں کا محرف ہو جانا ممکن ہے۔اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جانا ممکن ہے۔لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص کھلا کھلا خدا پر افترا کرے اور کہے کہ میں اس کا نبی ہوں اور اپنا کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔حالانکہ وہ نہ نبی ہو اور نہ اس کا کلام خدا کا کلام ہو۔اور پھر خدا اس کو بیچوں کی طرح مہلت دے۔( یہ سب کچھ ہو اور پھر خدا اس کو بچوں کی طرح مہلت دے) اور میچوں کی طرح اس کی قبولیت پھیلائے۔لہذا یہ اصول نہایت صحیح اور نہایت مبارک اور باوجود اس کے صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا ہے کہ ہم ایسے تمام نبیوں کو سچے نبی قرار دیں۔جن کا مذہب جڑ پکڑ گیا اور عمر پا گیا اور کروڑ ہا لوگ اس مذہب میں آگئے۔یہ اصول نہایت نیک اصول ہے اور اگر اس اصل کی تمام دنیا پابند ہو جائے تو ہزاروں فساد اور توہین مذہب جو مخالف امن عامہ خلائق ہیں اٹھ جائیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ کسی مذہب کے پا بندوں کو ایک ایسے شخص کا پیر و خیال کرتے ہیں جو ان کی دانست میں دراصل وہ کا ذب اور مفتری ہے تو وہ اس خیال سے بہت سے فتنوں کی بنیاد ڈالتے ہیں۔اور وہ ضرور تو ہین کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس نبی کی شان میں نہایت گستاخی کے الفاظ بولتے ہیں اور اپنے کلمات کو گالیوں کی حد تک پہنچاتے ہیں اور صلح کاری اور عامہ خلائق کے امن میں فتور ڈالتے ہیں۔حالانکہ یہ خیال ان کا بالکل غلط ہوتا ہے۔اور وہ اپنے گستاخانہ اقوال میں خدا کی نظر میں ظالم ہوتے ہیں۔خدا جو رحیم وکریم ہے وہ ہرگز پسند نہیں کرتا جو ایک جھوٹے کو ناحق کا فروغ دے کر اور اسکے مذہب کی جڑ جما کر لوگوں کو دھو کہ میں ڈالے۔اور نہ جائز رکھتا ہے کہ ایک شخص با وجود مفتری اور کذاب ہونے کے دنیا کی نظر میں سچے نبیوں 5