اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 4

بتایا تھا کہ امن کے طریق کیا ہونے چاہئیں۔اب جب ملکہ الزبتھ کی ڈائمنڈ جوبلی ہوئی ہے تو تحفہ قیصریہ کا ترجمہ پرنٹ کر کے خوبصورت جلد کے ساتھ ملکہ کو بھجوایا گیا تھا۔ملکہ کا جو متعلقہ شعبہ ہے جس کو یہ کتاب تحفہ کے طور پر جا کے دی گئی تھی، اور ساتھ میرا خط بھی تھا، اُن کی طرف سے مجھے شکریہ کا جواب بھی آیا ہے اور یہ بھی کہ ملکہ کی کتابوں کی جو collection ہے وہاں رکھ دی گئی ہے اور ملکہ اس کو پڑھے گی۔بہر حال پڑھتی ہے یا نہیں لیکن ہماری جوذ مہ داری تھی ہم نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔اس وقت بھی دنیا کی بدامنی کے وہ حالات ہیں جو اُس زمانہ میں بھی تھے بلکہ بعض لحاظ سے بڑھ رہے ہیں اور یہ لوگ اسلام پر حملہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ، آپ کا استہزاء کرتے چلے جارہے ہیں اور بہت آگے بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرستادوں کا احترام کیا جائے انبیاء بھی جب خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام لانے کا دعوی کرتے ہیں اور اُن کی جماعتیں بھی بڑھ رہی ہوتی ہیں تو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ یہ جماعت یا یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوؤں کا احترام کرنا چاہئے تا کہ دنیا کا امن قائم رہے۔اس بارہ میں ایک حصہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کس طرح امن ہونا چاہئے اور انبیاء کا کیا مقام ہوتا ہے ، وہ میں اس وقت پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: سو یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے (یعنی وہی قانون کہ اگر دنیاوی حکومتیں کسی ایسی بات کا اپنی طرف منسوب ہونا برداشت نہیں کرتیں جو نہیں کہی گئی تو اللہ تعالیٰ کس طرح برداشت کرے گا؟ فرمایا ”سو یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے کہ وہ نبوت کے جھوٹا دعویٰ کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا۔بلکہ ایسا شخص جلد پکڑا جاتا اور اپنی سزا کو پہنچ جاتا ہے۔اس قاعدہ کے لحاظ سے 4