مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 73
ولٰـکنی کمیّ قوی فی العالم الاعلٰی۔ولی عضب مذرب فی الافلاک وملک لا یبلٰی۔وحسام یضاھی البرق صقالہ۔ویمذّق الکذب قتالہ۔و لی صورۃ فی السماء لا یراھا الانسان۔ولا تدرکھا العینان۔واننی من اعاجیب الزمان۔وانی طُھّرت وبُدّلت وبُعّدت من العصیان۔وکذالک یطھّر ویبدّل من احبّنی وجاء بصدق الجنان۔وان انفاسی ھٰذہ تریاق سم الخطیّات وسدّ مانع من سوق الخطرات الٰی سوق الشبھات۔ولا یمتنع من الفسق عبدٌ ابدًا الّاالّذی احبّ حبیب الرحمان۔اوذھب منہ الاطیبان۔وعطف الشیب شطاطہ بعد ما کان کقضیب البان۔ومن عرف اللّٰہ اوعرف عبدہ فلا یبقی فیہ شی ئٌ من الحدّ والسنان۔وینکسر جناحہ ولا یبقی بطش فی الکف والبنان۔ومن خواص اھل النظر انھم یجعلون الحجرکالعقیان۔فانھم قوم لا یشقٰی جلیسھم ولا یرجع رفیقھم بالحرمان۔بقیہ ترجمہ۔لیکن مَیں عالم اعلیٰ میں ایک بہادر اور مضبوط انسان ہوں۔اور میرے لئے آسمانوں میں مرغن کھانا ہے اور ایسی حکومت ہے جو کبھی فنا نہیں ہو گی اور ایسی صیقل شدہ تلوار ہے جو بجلی کی مانند ہے اور اس کے ساتھ لڑنا جھوٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے اور آسمان میں میری ایسی صورت ہے جس کو انسان نہیں دیکھ سکتا۔اور نہ اُس کو آنکھیں پا سکتی ہیں۔اور مَیں عجائبات زمانہ میں سے ہوں۔اور مَیں گناہ و نافرمانی سے پاک اور دُ ور کیا گیا ہوں۔اور اسی طرح وہ شخص بھی پاک اور تبدیل کر دیا جاتا ہے۔جو مجھ سے محبت کرے اور صدق دل سے میرے پاس آئے اور میرے انفاس خطائوں کے زہر کا تریاق ہیں اور خطرات کو شبہات کے بازار میں لے جانے سے روکنے والی دیوار ہیں اور فسق و فجور سے کوئی بندہ رُک نہیں سکتا مگر وہی جو خدائے رحمان کے محبوب سے محبت رکھتا ہو یا وہ جس کی دونوں آنکھیں جاتی رہی ہوں اور بڑھاپا اس کے قد و قامت کو جھکا دے بعد اس کے کہ وہ بان درخت کی ٹہنی کی مانند تھا۔اور وہ شخص جو اﷲ تعالیٰ کو یا اس کے بندہ کو پہچان لے اس میں تیزی نہیں رہتی۔اس کے پَر ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کی ہتھیلی اور پوروں میں قوت گرفت نہیںرہتی۔اور اہل نظر کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ پتھر کو سونے کی مانند بنا دیتے ہیں۔وہ ایسے لوگ ہیں جن کا ہم مجلس بے نصیب نہیں رہتا اور جن کا دوست محروم نہیں لوٹتا