مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 72
مجموعه اشتہارات ۷۲ جلد سوم اشتدت في زمننا لرفع الالتباس ۔ ليعلم الناس حقيقة الامر ويعرفوا السر كالاكياس والاسلام مشرب قد احتوى كل نوع حفاوة۔ والقرآن كتاب جمع كل حلاوة وطلاوة۔ ولكن الاعداء لا يرون من الظلم والضيم۔ ويتسابون انسياب الايم۔ مع ان الاسلام دين خصه الله بهذه الأثرة۔ وفيه بركات لا يبلغها احد من الملة۔ وكان الاسلام في هذا الزمان كمثل معصوم انم وظلم بانواع البهتان۔ وطالت الالسنة عليه و صالوا على حريمه۔ وقالوا مذهب كان قتل الناس خلاصة تعليمه ۔ فَبُعِثت ليجد الناس ما فقدوا من سعادة الجد۔ وليخلصوا من الخصم الالد۔ و انى ظهرت برث في الارض وحلل بارقة فى السماء۔ فقير في الغبراء وسلطان في الخضراء۔ فطوبى للذى عرفنى او عرف من عرفني من الاصدقاء وجئت اهل الدنيا ضعيفًا نحيفًا كنحافة الصب۔ وغرض القذف والشتم والسب۔ بقیہ ترجمہ ۔ اور ہمارے زمانہ میں وساوس اور شبہات کو دور کرنے کی حاجت زیادہ شدت اختیار کر گئی ہے تا وہ لوگوں کو حقیقت امر سے آگاہ کرے اور تا لوگ داناؤں اور ذہین لوگوں کی طرح راز سے واقف ہو جائیں اور اسلام ایک ایسا گھاٹ ہے جو ہر قسم کے اعزاز اور ہر طرح کی خوشی کے اظہار پر حاوی ہے اور قرآن کریم نے اپنے اندر ہر قسم کی حلاوت اور شان و شوکت کو جمع کر لیا ہے۔ لیکن دشمن ظلم و جور کو نہیں دیکھتے اور اژدھا کی طرح تیز چلتے ہیں۔ اس کے باوجود اسلام ایک ایسا دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ترجیح سے مخصوص کیا ہے اور اس میں ایسی برکات ہیں جن تک کوئی امت نہیں پہنچ سکتی ۔ اور اس زمانہ میں اسلام اس معصوم کی مانند ہے جس کو گنہگار قرار دیا گیا اور انواع و اقسام کے بہتان لگا کر اس پر ظلم کیا گیا اور اس پر زبانیں دراز ہوئیں اور اس کے محفوظ حصہ پر لوگوں نے حملہ کیا۔ اور انہوں نے کہا کہ اس کی تعلیم کا خلاصہ لوگوں کو قتل کرنا ہے۔ پس میں مبعوث کیا گیا تا لوگ بزرگی کی گم شدہ سعادت کو پالیں اور تاوہ سخت جھگڑا لو قسم کے لوگوں سے نجات پا جائیں۔ اور میں زمین میں بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس اور آسمانوں میں چمکیلے لباس میں ظاہر ہوا ہوں ۔ میں زمین میں غریب اور آسمان میں بادشاہ ہوں ۔ پس خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے مجھے یا میرے پہچاننے والے دوستوں کو پہچانا۔ اور میں اہل دنیا کے پاس ایک عاشق کی طرح نحیف و نزار اور لعن طعن اور گالی گلوچ کا نشانہ بن کر آیا ہوں ۔