مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 72

اشتدت فی زمننا لرفع الالتباس۔لیعلم الناس حقیقۃ الامر ویعرفوا السرّ کالاِکیاس۔والاسلام مشرب قد احتویٰ کل نوع حفاوۃ۔والقراٰن کتاب جمع کل حلاوۃ وطلاوۃ۔ولٰـکن الاعداء لا یرون من الظلم والضیم۔ویتسابون انسیاب الایم۔مع ان الا سلام دین خصّہ اللّٰہ بھٰذہ الاٰثرۃ۔وفیہ برکات لا یبلغھا احد من الملۃ۔وکان الاسلام فی ھٰذا الزمان کمثل معصوم اُثّم وظُلم بانواع البھتان۔وطالت الالسنۃ علیہ و صالوا علٰی حریمہ۔وقالوا مذھب کان قتل النّاس خلاصۃ تعلیمہ۔فَبُعِثت لیجد الناس ما فقدوا من سعادۃ الجد۔ولیخلصوا من الخصم الالدّ۔و انی ظھرت برثٍّ فی الارض وحلل بارقۃ فی السماء۔فقیر فی الغبراء وسلطان فی الخضراء۔فطوبٰی للذی عرفنی اوعرف من عرفنی من الاصدقاء وجئتُ اھل الدنیا ضعیفًا نحیفًا کنحافۃ الصب۔وغرض القذف والشتم والسبّ۔بقیہ ترجمہ۔اور ہمارے زمانہ میں وساوس اور شبہات کو دُور کرنے کی حاجت زیادہ شدّت اختیار کر گئی ہے تا وہ لوگوں کو حقیقت امر سے آگاہ کرے اور تا لوگ دانائوں اور ذہین لوگوں کی طرح راز سے واقف ہو جائیں اور اسلام ایک ایسا گھاٹ ہے جو ہر قسم کے اعزاز اور ہر طرح کی خوشی کے اظہار پر حاوی ہے اور قرآن کریم نے اپنے اندر ہر قسم کی حلاوت اور شان و شوکت کو جمع کر لیا ہے۔لیکن دشمن ظلم وجور کو نہیں دیکھتے اور اژدھا کی طرح تیز چلتے ہیں۔اس کے باوجود اسلام ایک ایسا دین ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اس ترجیح سے مخصوص کیا ہے اور اس میں ایسی برکات ہیں جن تک کوئی امت نہیں پہنچ سکتی۔اور اس زمانہ میں اسلام اس معصوم کی مانند ہے جس کو گنہگار قرار دیا گیا اور انواع و اقسام کے بہتان لگا کر اس پر ظلم کیا گیا اور اس پر زبانیں دراز ہوئیں اور اس کے محفوظ حصہ پر لوگوں نے حملہ کیا۔اور انہوں نے کہا کہ اس کی تعلیم کا خلاصہ لوگوں کو قتل کرنا ہے۔پس مَیں مبعوث کیا گیا تا لوگ بزرگی کی گم شدہ سعادت کو پا لیں اور تاوہ سخت جھگڑالو قسم کے لوگوں سے نجات پا جائیں۔اور مَیں زمین میں بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس اور آسمانوں میں چمکیلے لباس میں ظاہر ہوا ہوں۔مَیں زمین میں غریب اور آسمان میں بادشا ہ ہوں۔پس خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے مجھے یا میرے پہچاننے والے دوستوں کو پہچانا۔اور مَیں اہل دنیا کے پاس ایک عاشق کی طرح نحیف و نزار اور لعن طعن اور گالی گلوچ کا نشانہ بن کر آیا ہوں۔