مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 65
مجموعه اشتہارات ۶۵ جلد سوم پھر جبکہ تم میں خود ہی وہ ایماں نہیں رہا پھر اپنے کفر کی خبر اے قوم لیجئے وہ اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم سے کرتی نہیں ہے منع صلوٰۃ اور صوم سے ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو عادت میں اپنی کر لیا فسق و گناہ کو اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے اے قوم تم پر یار کی اب وہ نظر نہیں روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں کیونکر ہو نظر کہ تمہارے وہ دل نہیں شیطاں کے ہیں خدا کے پیارے وہ دل نہیں تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے وہ ظالم و سفاک ہو گئے اب تم تو خود ہی مورد خشم خدا ہوئے اس یار سے بشامت عصیاں جدا ہوئے اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے سچ سچ کہو کہ تم میں امانت ہے اب کہاں وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں نور مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا آیت عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ یاد کیجئے ایسا گماں کہ مہدی خونی بھی آئے گا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا اے غافلو یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آ چکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا اب سال سترہ بھی صدی سے گزر گئے تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمہیں کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمہیں پر تم نے اُن سے کچھ بھی اُٹھایا نہ فائدہ مونھ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائدہ بخلوں سے یارو باز بھی آؤ گے یا نہیں خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں مخفی جو دل میں ہے وہ سناؤ گے یا نہیں آخر خدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں اُس وقت اُس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اُس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے اُستوار لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے