مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 64

کیوں بھولتے ہوں تم یَضَعُ الْحَرْب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سیِدّ کونینِ مصطفیٰ عیسٰی مسیح جنگوں کا کردے گا التوا جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گو سپند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف و بیگزند یعنی وہ وقت امن کا ہو گا نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا یہ حکم سُن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اُٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں اب تم میں خود وہ قوت وطاقت نہیں رہی وہ سلطنت وہ رُعب وہ شوکت نہیں رہی وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزم مقبلانہ وہ ہمت نہیں رہی وہ علم وہ صلاح وہ عفّت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وہ درد وہ گداز وہ رقّت نہیں رہی خلقِ خدا پہ شفقت و رحمت نہیں رہی دل میں تمہارے یار کی اُلفت نہیں رہی حالت تمہاری جازب نُصرت نہیں رہی حُمق آ گیا ہے سر میں وہ فطنت نہیںرہی کسل آ گیا ہے دل میں جلاوت نہیں رہی وہ علم و معرفت و فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پہ سبقت نہیں رہی وہ اُنس و شوق ووجد وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد و نہایت نہیں رہی ہر وقت جھوٹ سچ کی تو عادت نہیں رہی نور خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مر گئے نیکی کی قدرت نہیں رہی سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے مودّت نہیں رہی