مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 63

 عرض ضروری بحالتِ مجبوری انسان کی کمزوریاں جو ہمیشہ اُس کی فطرت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیشہ اُس کو تمدن اور تعاون کا محتاج رکھتی ہیں اور یہ حاجت تمدن اور تعاون کی ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ جس میں کسی عاقل کو کلام نہیں خود ہمارے وجود کی ہی ترکیب ایسی ہے کہ جو تعاون کی ضرورت پر اوّل ثبوت ہے ہمارے ہاتھ اور پائوں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضا اور ہماری سب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایسی طرز پر واقع ہیں جب تک وہ باہم مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تب تک افعال ہمارے وجود کے علیٰ مجری الصحت ہرگز جاری نہیں ہوسکتے اور انسانیت کی کل ہی معطل پڑی رہتی ہے جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہونا چاہیے وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہوسکتا اور جس راہ کو دو پائوں مل کر طے کرتے ہیں وہ فقط ایک ہی پائوں سے طے نہیں ہوسکتا اسی طرح تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہورہی ہے کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے ہرگز نہیں کوئی کام دینی ہو یا دنیوی بغیر معاونت باہمی کے چل ہی نہیں سکتا ہریک گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضا یکدیگر ہے اور ممکن نہیں جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اُس گروہ کے ہے بغیر معاونت باہمی اُن کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہوسکے بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علّتِ غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہوسکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا انبیاء علیہم السلام جو توکّل اور تفویض