مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 55
مجموعه اشتہارات جلد سوم تین خدا بنانے کی تخم ریزی اول دمشق سے شروع ہوئی ہے اور مسیح موعود کا نزول اس غرض سے ہے کہ تا تین کے خیالات کو محو کر کے پھر ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے ۔ پس اس ایما کے لئے بیان کیا گیا کہ مسیح کا منارہ جس کے قریب اس کا نزول ہو گا دمشق سے شرقی طرف ہے اور یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ قادیان جوضلع گورداسپور پنجاب میں بقیہ حاشیہ ۔ پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آ رمانه تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے مسجد اقصی سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیاں میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فيه ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا قرآن شریف کی آیت بَارَكْنَا حَوْلَۂ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سُبْحٰنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ - اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیں یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے ۔ مگر کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک زمانی معراج بھی تھا جس سے یہ غرض تھی کہ تا آپ کی نظر کشفی کا کمال ظاہر ہوا اور نیز ثابت ہو کہ مسیحی زمانہ کے برکات بھی در حقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی توجہ اور ہمت سے پیدا ہوئی ہیں ۔ اسی وجہ سے مسیحا سے مسیح ایک طور سے آپ ہی کا روپ ہے ۔ اور وہ معراج یعنی بلوغ نظر کشفی دنیا کی انتہا تک تھا جو سیح کے زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس معراج میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصی یہی ہے جو قادیاں میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔ یہ مسجد جسمانی طور پر مسیح موعود کے حکم سے بنائی گئی ہے اور روحانی طور پر مسیح موعود کے برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بطور موہبت ہیں اور جیسا کہ مسجد الحرام کی روحانیت حضرت آدم اور حضرت ابراہیم کے کمالات ہیں اور بیت المقدس کی روحانیت انبیاء بنی اسرائیل کے کمالات ہیں ایسا ہی مسیح موعود کی یہ مسجد اقصیٰ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے اس کے روحانی کمالات کی تصویر ہے۔