مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 46

مجموعه اشتہارات ۴۶ جلد سوم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اور فرمایا کہ خوش قسمت ہے وہ امت جو دو پنا ہوں کے اندر ہے ایک میں جو خاتم الانبیاء ہوں اور ایک مسیح موعود جو ولایت کے تمام کمالات کو ختم کرتا ہے اور فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو نجات پائیں گے ۔ اب فرمائیے کہ جو شخص مسیح موعود سے کنارہ کر کے عبداللہ غزنوی کی وجہ وجہ سے اس سے نارا ناراض ہوتا ہے اس کا کیا حال ہے ۔ کیا سچ نہیں ہے کہ تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے صلحاء اور اولیاء اور ابدال اور قطبوں اور غوثوں میں سے کوئی بھی مسیح موعود کی شان اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ پھر اگر یہ سچ ہے تو آپ کا مسیح موعود کے مقابل پر مولوی عبداللہ غزنوی کا ذکر کرنا اور بار بار یہ شکایت کرنا کہ عبداللہ کے حق میں یہ کہا ہے کس قدر خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول کریم کی وصیتوں سے لا پروائی ہے۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ عبداللہ غزنی سے نکالا جائے گا اور پنجاب میں آئے گا اس کو تم مان لینا اور میرا سلام اس کو پہنچانا ؟ یا یہ نصیحت فرمائی تھی کہ غلبہ صلیب کے وقت مسیح موعود ظاہر ہوگا اور وہ نبیوں کی شان لے کر آئے گا اور خدا اس کے ہاتھ پر صلیبی مذہب کو شکست دے گا اس کی نافرمانی نہ کرنا اور اس کو میری طرف سے سلام پہنچانا ؟ اور اگر یہ کہو کہ وہ تو آ کر نصاری سے لڑے گا اور ان کی صلیبوں کو توڑے گا اور ان کے خنزیروں کو قتل کرے گا تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ علماء اسلام کی غلطیاں ہیں بلکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود نرمی اور صلح کاری کے ساتھ آتا۔ اور صحیح بخاری میں بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا اور نہ تلوار اٹھائے گا بلکہ اس کا حربہ آسمانی حربہ ہوگا اور اس کی تلوار دلائل قاطعہ ہوگی ۔ سو وہ اپنے وقت پر آچکا۔ اب کسی فرضی مہدی اور فرضی مسیح موعود کی انتظار کرنا اور خونریزی کے زمانہ کا منتظر رہنا سراسر کو یہ نہی کا نتیجہ ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر بہت سے نشان دکھلائے اور ایسے یقینی طور پر ظاہر ہوئے کہ تیرہ سو برس کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد ان کی نظیر نہیں پائی جاتی ۔ اسلامی اولیاء کی کرامات ان کی زندگی سے بہت پیچھے لکھی گئی ہیں۔ اور اُن کی شہرت صرف اُن کے چند مریدوں تک محدود تھی ۔ لیکن یہ نشان کروڑ ہا