مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 44

ہوں گی جیسا کہ آپ کا الہام ’’ مُسْرِفٌ‘‘ ’’ کَذَّابٌ‘‘ تو اس صورت میں آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کے الہام کاغذ کے ایک صفحہ میں کس قدر آ سکتے ہیں۔مَیں پھر آپ کو اللّٰہ جلّ شانہٗ کی قسم دیتا ہوں کہ مسلمانوں کی حالت پر رحم کر کے بمجرد پہنچنے اس خط کے اپنے الہامات چھپوا کر روانہ فرمائیں۔مجھے اس بات پر بھی سخت افسوس ہوا ہے کہ آپ نے بے وجہ میری یہ شکایت کی کہ گویا مَیں نے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی کوئی بے ادبی کی ہے۔آپ جانتے ہیں کہ میری گفتگو صرف اس قدر تھی کہ آپ مولوی محمد حسین کو کیوں بُرا کہتے ہیں حالانکہ آپ کے مُرشد مولوی عبد اللہ صاحب نے اس کے حق میں یہ الہام شائع کیا تھا کہ وہ تمام عالموں کے لئے رحمت ہے اور سب اُمت سے بہتر ہے۔یہ قرآنی الہام تھے جن کا مَیں نے ترجمہ کر دیا ہے۔اس صورت میں اگر شک تھا تو آپ مولوی محمد حسین سے دریافت کر لیتے۔سچی بات پر غصہ کرنا مناسب نہیں ہے پھر ما سوا اس کے جس دعویٰ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اس کے مقابل پر عبد اللہ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایا ہے۔مَیں یقینا جانتا ہوں کہ اگر وہ اس وقت زندہ ہوتے تو وہ میرے تابعداروں اور خادموں میں داخل ہوجاتے۔ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے آگے گردن خم کرنا اورغربت اور چاکری کی راہ سے اطاعت اختیار کر لینا ہر ایک دیندار اور سچے مسلمان کا کام ہے۔پھر وہ کیونکر میری اطاعت سے باہر رہ سکتے تھے۔اس صورت میں آپ کا کچھ بھی حق نہیں تھا۔اگرمَیں حَکَمْ ہونے کی حیثیت سے اُن میں کچھ کلام کرتا۔آپ جانتے ہیں کہ خدا اور رسول نے مولوی عبد اللہ کا کوئی درجہ مقرر نہیں کیا اور انہ اُن کے بارے میں کوئی خبر دی۔یہ فقط آپ کا نیک ظن ہے جو آپ نے اُن کو نیک سمجھ لیا۔ورنہ کسی حدیث یا آیت سے تو ثابت نہیں کہ درحقیقت پاک دل تھے۔ہاں جہاں تک ہمیں خبر ہے وہ پابند نماز تھے۔رمضان کے روزے رکھتے تھے اور بظاہر دیندار مسلمان تھے اور اندرونی حال خدا کو معلوم۔حافظ محمد یوسف صاحب نے کئی دفعہ قسم یاد کرنے سے یقین کامل سے کئی مجلسوں میں میرے روبرو بیان کیا کہ ایک دفعہ عبد اللہ صاحب نے اپنے کسی خواب یا الہام کی بنا پر فرمایا تھا کہ آسمان سے