مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 39
خبر پہنچی ہے کہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی نے میرے ظہور کی نسبت پیشگوئی کی تھی۔ان دونوں صاحبوں میں سے ایک صاحب کا نام حافظ محمد یوسف ہے جو داروغہ نہر ہیں اور غالباًاب مستقل سکونت امرتسر میں رکھتے ہیں۔دوسرے صاحب منشی محمد یعقوب نام ہیں اور یہ دونوں حقیقی بھائی ہیں اور یہ دونوں صاحب عبد اللہ صاحب کے خاص معتقدین اور مصاحبین میں سے ہیں جس سے کسی صاحب کو بھی انکار نہیں اور ان کی گواہیاں اگرچہ دو ہیں مگرحاصل مطلب ایک ہی ہے۔حافظ محمد یوسف صاحب کا حلفی بیان جس کے غالباً دو سو کے قریب گواہ ہو ں گے یہ ہے کہ ـ’’ ایک دن عبد اللہ صاحب نے مجھے فرمایا کہ مَیں نے کشفی طورپر دیکھا ہے کہ ایک نو ر آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا ہے اورمیری اولاد اس سے محروم رہ گئی ہے یعنی اس کو قبول نہیں کیا اور وہ انکار اور مخالفت پر مرے گی اور منشی محمد یعقوب صاحب کا ایک تحریری بیان ہے جو ایک خط میں موجود ہے جو ابھی۳۰؍ اپریل ۱۹۰۰ء کو بذریعہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلہ سے مجھ کو پہنچا ہے جس کو انہوں نے بتاریخ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۰ء اپنے ہاتھ سے لکھ کر منشی ظفر احمد صاحب کے پاس بھیجا تھا اور انہوں نے میرے پاس بھیج دیا جو اس وقت میرے سامنے رکھا ہے اور جو شخص چاہے دیکھ سکتا ہے مگر مَیں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس تمام حقیقت کے سمجھانے کے لئے وہ حالات بھی لکھ دوں جو مجھے معلوم ہیں کیونکہ جو کچھ خط میں ایک کمزور عبارت میں لکھا گیا ہے اسی کو منشی محمد یعقوب صاحب ایک بڑے شدّ و مدسے میرے سامنے بیان کر چکے ہیں۔مگر چونکہ اب وہ اور اُن کے دنیا سے پیار کرنے والے بھائی حافظ محمد یوسف شیعوں کی طرح خلافتِ حقّہ سے انکار کر کے تقیّہ کے رنگ میں بسر کررہے ہیں اس لئے اب اُن کے لئے ایک موت ہے کہ سچا واقعہ مجلس میں اُسی شدّ و مد کے ساتھ منہ پر لاویںتا ہم امید نہیں کہ وہ اس شہادت کو مخفی رکھیں کیونکہ حق کو چھپانا لعنتیوں کا کام ہے نہ قرآن شریف کے حافظوں کا۔اس لئے ہم بھی منتظر ہیں کہ ان کی طرف سے کیا آواز آتی ہے۔منشی محمد یعقوب صاحب تو بوجہ اس خط کے قابو میں آ گئے ہیں مگر حافظ محمد یوسف صاحب کے لئے اس وقت تک حیلہ بازی کی راہ کھلی ہے جب تک کہ قرآن شریف ہاتھ میں دے کر ایک مجمع