مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 473
قابل توجہ ناظرین اے پیارے ناظرین خدا آپ صاحبوں کے دلوں میں سچائی کا الہام کرے اور میری کوشش کو جو میں نے سراسر ہمدردی اور نیک نیّتی سے کی ہے آپ لوگوں کے لئے مفید بناوے۔آمین! اس کتاب کا پہلا حصہ جو میری طرف سے آریہ سماج کے جلسہ میں سنایا گیا تھا۔مَیں نے وہ حصہ اس کتاب کے آخر میں شامل کردیا ہے۔اور میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اوّل اُن تمام اعتراضات کا جواب لکھوں جو نہایت بُرے پیرایہ اور بدتہذیبی سے آریہ صاحبوں کی طرف سے ایک عام مجمع میں حاضرین کادل دُکھانے کے لئے پڑھے گئے تھے۔اور بعد میں کتاب کے آخر میں اپنا وہ مضمون شامل کردوں جو میری طرف سے اس جلسہ میں پڑھا گیا تھا۔اور اِسی غرض سے میں نے اُس پہلے حصہ کی اشاعت اس وقت تک روک رکھی تھی جب تک کہ میں آریہ صاحبوں کے اعتراضات کا جواب لکھ لوں۔سو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالْمَنَّۃِ کہ وہ جواب پورے طور پر لکھا گیا۔اس لئے میں نے وہ مضمون جو جلسہ میں پڑھا گیا تھا اس رسالہ کے آخر میں لگا دیا ہے۔ہمیںآریہ صاحبوں پر یہ افسوس نہیں کہ انہوںنے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں اعتراض کئے۔کیونکہ منکر کو تہذیب اور شرافت کے ساتھ اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے بلکہ ہمارا تمام افسوس اس بات پر ہے کہ انہوں نے شرافت اور تہذیب سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے مضمون میں نہایت درندگی اور ناپاکی سے کام لیا۔اور اپنے مضمون کو ایک گالیوں کامجموعہ بنادیا اور کھلے کھلے طورپر ارادہ کیا کہ اُن معزز مسلمانوں کا دل دکھایا جائے جن کو آپ ہی دھوکہ دے کر بلایا اور آپ ہی شرط لگادی تھی کہ مہذبانہ