مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 472

ذریعہ سے دونوں بیماروں کو اپنی اپنی دُعا کے لئے تقسیم کر لیں۔پھر جس فریق کا بیمار بکلّی اچھا ہو جاوے یا دوسرے بیمار کے مقابل پر اس کی عمر زیادہ کی جائے وہی فریق سچا سمجھا جاوے۔یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اور مَیں پہلے سے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر بھروسہ کر کے یہ خبر دیتا ہوں کہ جو بیمارمیرے حصہ میں آوے گا یا تو خدا اس کو بکلّی صحت دے گا اور یا بہ نسبت دوسرے بیمار کے اس کی عمر بڑھا دے گا اور یہی امر سچائی کا گواہ ہو گا۔اور اگر ایسا نہ ہوا توپھر یہ سمجھو کہ مَیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔لیکن یہ شرط ہو گی کہ فریق مخالف جو میرے مقابل پر کھڑا ہو گا وہ خود اور ایسا ہی دس اور مولوی یا دس رئیس جو اس کے ہم عقیدہ ہوں یہ شائع کر دیں کہ درحالت میرے غلبہ کے وہ میرے پر ایمان لائیں گے اور میری جماعت میں داخل ہوں گے اور یہ اقرار تین نامی اخباروں میں شائع کرانا ہو گا۔ایسا ہی میری طرف سے بھی یہی شرائط ہوں گی … اس قسم کے مقابلہ سے فائدہ یہ ہو گا کہ کسی خطرناک بیمار کی جو اپنی زندگی سے نو مید ہو چکا ہے۔خد تعالیٰ جان بچائے گا اور احیاء ِمو ٰتی کے رنگ میں ایک نشان ظاہر کرے گا اور دوسرے یہ کہ اس طور سے یہ جھگڑا بڑے آرام اور سہولت سے فیصلہ ہو جائے گا۔وَالسَّـلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشتہر میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ۱۵ ؍مئی ۱۹۰۸ء (چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ ۲ تا۴)