مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 471

مجموعه اشتہارات ۴۷۱ جلد سوم وو آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دنیا سے گذر گیا۔ کہاں ہے بابو الہی بخش صاحب مؤلف عصائے موسی اکو نٹنٹ لاہور ؟ جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دے کر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنی زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی ۔ اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سے پیشگوئیاں کی تھیں ۔ آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسی پر جھوٹ اور افتراء کا داغ لگا کر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا ۔ اور ان تمام لوگوں نے چاہا کہ میں اس آیت کا مصداق ہو جاؤں کہ اِنْ تَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ لیکن وہ آپ ہی اس آیت ممدوحہ کا مصداق ہو کر ہلاک ہو گئے اور خدا نے ان کو ہلاک کر کے مجھ کو اس آیت کا مصداق بنا دیا ۔ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ۔ کیا ان تمام دلائل سے خدا تعالیٰ کی حجت پوری نہیں ہوئی مگر ضرور تھا کہ مخالف لوگ انکار سے پیش آتے کیونکہ پہلے سے یعنی آج سے چھبیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا کی یہ پیشگوئی موجود ہے۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے حملوں کو نہیں روکے گا اور نہ بس کرے گا جب تک کہ دنیا پر میری سچائی ظاہر نہ ہو جائے۔ لیکن آج ۵ ارمئی ۱۹۰۸ ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اور طریق فیصلہ کا ہے شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اُٹھاوے اور انکار کے خطرناک گرداب سے نکل آوے اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہوا اور مجھ کو کافر اور کذاب سمجھتا ہوتا وہ کم سے کم دس نامی مولوی صاحبوں یا دس نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دوسخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمایش کریں یعنی اس طرح پر کہ دو خطر ناک بیمار لے کر جو مجد اجدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے لے حاشیہ۔ یہ بھی شرط ہے کہ وہ شخص عام لوگوں میں سے نہ ہو بلکہ قوم میں خصوصیت اور علمیت اور تقویٰ کے ساتھ مشہور ہو جس کا مغلوب ہونے کی حالت میں دوسروں پر اثر پڑے سکے۔ منہ