مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 471
آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی دُنیا سے گذر گیا۔کہاں ہے بابو الہٰی بخش صاحب مؤلف ’’عصائے موسٰی‘‘ اکونٹنٹ لاہور ؟ جس نے اپنے تئیں موسیٰ قرار دے کر مجھے فرعون قرار دیا تھا اور میری نسبت اپنی زندگی میںہی طاعون سے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی تھی۔اور میری تباہی کی نسبت اور بھی بہت سے پیشگوئیاں کی تھیں۔آخر وہ بھی میری زندگی میں ہی اپنی کتاب عصائے موسٰی پر جھوٹ اور افتراء کا داغ لگا کر طاعون کی موت سے بصد حسرت مرا۔اور ان تمام لوگوںنے چاہا کہ مَیں اس آیت کا مصداق ہو جائوں کہ اِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ لیکن وہ آپ ہی اس آیت ممدوحہ کا مصداق ہو کر ہلاک ہو گئے اور خدا نے ان کو ہلاک کر کے مجھ کو اس آیت کا مصد اق بنا دیا۔وَ اِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ۔کیا ان تمام دلائل سے خدا تعالیٰ کی حجت پوری نہیں ہوئی مگر ضرور تھا کہ مخالف لوگ انکار سے پیش آتے کیونکہ پہلے سے یعنی آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا کی یہ پیشگوئی موجود ہے۔دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔سو ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے حملوں کو نہیں روکے گا اور نہ بس کرے گا جب تک کہ دُنیا پرمیری سچائی ظاہر نہ ہو جائے۔ٍ لیکن آج ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو میرے دل میں ایک خیال آیا ہے کہ ایک اَور طریق فیصلہ کا ہے شاید کوئی خدا ترس اس سے فائدہ اُٹھاوے اور انکار کے خطرناک گرداب سے نکل آوے اور وہ طریق یہ ہے کہ میرے مخالف منکروں میں سے جو شخص اشد مخالف ہو اور مجھ کو کافر اور کذّاب سمجھتا ہو ۱؎ وہ کم سے کم دس۱۰ نامی مولوی صاحبوں یا دس ۱۰نامی رئیسوں کی طرف سے منتخب ہو کر اس طور سے مجھ سے مقابلہ کرے جو دو سخت بیماروں پر ہم دونوں اپنے صدق و کذب کی آزمایش کریں یعنی اس طرح پر کہ دو خطرناک بیمار لے کر جو جُدا جُدا بیماری کی قسم میں مبتلا ہوں قرعہ اندازی کے ۱۔یہ بھی شرط ہے کہ وہ شخص عام لوگوں میں سے نہ ہو بلکہ قوم میں خصوصیت اور علمیت اور تقویٰ کے ساتھ مشہور ہو جس کا مغلوب ہونے کی حالت میں دوسروں پر اثر نہ پڑ سکے۔منہ