مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 470
ہے۔پہلے مَیں نے صاف صاف ادلّہ کتاب اللہ اور حدیث سے اپنے دعوٰی کو ثابت کیا مگر قوم نے دانستہ ان دلائل سے مُنہ پھیر لیا اور پھر میرے خدا نے بہت سے آسمانی نشان میری تائید میں دکھلائے مگر قوم نے اُن سے بھی کچھ فائدہ نہ اُٹھایا۔اور پھر ان میں سے کئی لوگ مباہلہ کے لئے اُٹھے اور بعض نے علاوہ مباہلہ کے الہام کا دعویٰ کر کے یہ پیشگوئی کی کہ فلاں سال یا کچھ مدت تک ان کی زندگی میں ہی یہ عاجز ہلا ک ہو جائے گا مگر آخر کار وہ میری زندگی میں خود ہلاک ہو گئے۔مگر نہایت افسو س ہے کہ قوم کی پھر بھی آنکھ نہ کھلی اور انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا تو ہر ایک پہلو سے وہ مغلوب نہ ہوتے۔قرآن شریف ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔معراج کی حدیث اور حدیث امامکم منکم ان کو جھوٹا ٹھہراتی ہے۔مباہلوں کا انجام ان کو جھوٹا ٹھہراتا ہے۔پھر ان کے ہاتھ میں کیا ہے جو خدا کے اس فرستاوہ کی دلیری سے تکذیب کر رہے ہیں جو تقریباً چھبیس ۲۶برس سے ان کو حق اور راستی کی طرف بلا رہا ہے۔کیا اب تک انہوں نے آیہ کریمہ یُصِبْکُمْ ۱؎ کا مزہ نہیں چکھا۔کہاں ہے مولوی غلام دستگیر جس نے اپنی کتاب فیض رحمانی میں میری ہلاکت کے لئے بد دُعا کی تھی اور مجھے مقابل پر رکھ کر جھوٹے کی موت چاہی تھی؟کہاں ہے مولوی چراغ دین جموں والا جس نے الہام کے دعوے سے میری موت کی خبر دی تھی اور مجھ سے مباہلہ کیا تھا۔کہاں ہے فقیر مرزا جو اپنے مریدوں کی ایک بڑی جماعت رکھتا تھا جس نے بڑے زور شور سے میری موت کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ عرش پر سے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ شخص مفتری ہے آیندہ رمضان تک میری زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔لیکن جب رمضان آیا تو پھر آپ ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔کہاں ہے سعد اللہ لودہانوی؟ جس نے مجھ سے مباہلہ کیا تھا اور میری موت کی خبر دی تھی۔آخر میری زندگی میں ہی طاعون سے ہلاک ہو گیا۔کہاں ہے مولوی محی الدین لکھوکے والا؟ جس نے مجھے فرعون قرار دے کر اپنی ندگی میں ہی میری موت کی خبر دی تھی اور میری تباہی کی نسبت کئی اور الہام شائع کئے تھے