مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 469
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ۱؎ آمین۔اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تُو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔------------------------------ جب سے خدا نے مجھے مسیح موعود اور مہدی ۲؎ معہود کا خطاب دیا ہے میری نسبت جوش اور غضب اُن لوگوں کا جو اپنے تئیں مسلمان قرار دیتے ہیں اور مجھے کافر کہتے ہیں انتہا تک پہنچ گیا ہے۔؎ الاعراف : ۹۰ ۲؎ حاشیہ۔بعض کم سمجھ لوگ جو کتاب اللہ اور حدیث نبوی میں تدبر نہیں کرتے وہ میرے مہدی ہونے کو سُن کر یہ کہا کرتے ہیں کہ مہدی موعود تو سادات میں سے ہو گا۔سو یاد رہے کہ باوجود اس قدر جوش مخالفت کے ان کو احادیث نبویہ پر بھی عبور نہیں۔مہدی کی نسبت احادیث میں چار قول ہیں۔(۱) ایک یہ کہ مہدی سادات میں سے ہو گا۔(۲)دوسرے یہ کہ قریش میں سے سادات ہوں یا نہ ہوں۔(۳)تیسرے یہ حدیث کہ رَجُلٌ مِّنْ اُمَّتِیْ یعنی مہدی میری امت میں سے ایک مرد ہے خواہ کوئی ہو (۴) چوتھے یہ حدیث ہے کہ لَا مَھْدِیَ اِلَّا عِیْسٰی یعنی بجز عیسیٰ کے اور کوئی مہدی نہیں ہو گا۔وہی مہدی ہے جو عیسیٰ کے نام پر آئے گا۔اسی آخری قول کے مصدق وہ اقول محدثین ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ مہدی کے بارے میں جس قدر احادیث ہیں بجز حدیث عیسیٰ مہدی کے کوئی ان حدیثوں میں سے جرح سے خالی نہیں مگر عیسیٰ کا مہدی ہونا بلکہ سب سے بڑا مہدی ہونا تمام اہل حدیث اور اَئمہ اربعہ کے نزدیک بغیر کسی نزاع کے مسلّم ہے۔پس مَیں وہی مہدی ہوں جو عیسیٰ بھی کہلاتا ہے۔اور اس مہدی کے لئے شرط نہیں ہے کہ حسنی یا حسینی یا ہا شمی ہو۔منہ