مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 452
سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔نہیں ہر گز نہیں۔بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائو گے۔تم سُن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہوگئے تھے۔امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتووں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔سو خدا تعالیٰ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس گورنمنٹ نے ایسا ہی تمہیں اپنے سایہ پناہ کے نیچے لے لیا جیسا کہ نجاشی بادشاہ نے جو کہ عیسائی تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پناہ دی تھی۔میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں نہ اس سے کوئی صلہ چاہتاہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گذاری کروں اور اپنی جماعت کو اطاعت کے لیے نصیحت کروں۔سو یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابل پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے اور میرے نزدیک یہ سخت بدذاتی ہے کہ جس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیر سایہ ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے اس کے احسان کے ہم شکرگذار نہ ہوں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۱؎ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہے اور حدیث شریف میں بھی ہے کہ جو انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر نہیں کرتا۔یہ تو سوچو کہ اگرتم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جائو تو پھر تمہارا ٹھکانا کہاں ہے؟ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے قتل کرنے کے لیے دانت پیس رہی ہے کیونکہ ان کی نگاہ