مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 448
اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بداثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔اس لیے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔آمین ثم آمین۔۔۱؎ آمین۔بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔الراقـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــم عبد اللہ الصمد میرزا غلام احمدالمسیح الموعود عَافَاہُ اللّٰہُ وَاَیَّد مرقوم تاریخ 15/ اپریل 1907ء مطابق یکم ربیع الاول 1325ھ روز دو شنبہ (تبلیغ رسالت جلد 10 صفحہ 118 تا 120)