مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 445
فی أیام قریبۃ لیقضی اللّٰہ بیننا۔وأُوحِی فی ۲۷؍ستمبر سنۃ ۱۹۰۶ء: ( ترجمۃ الہندی): السلام علیک أیّہا المظفّر۔سُمع دعاؤک۔بلجَتْ آیاتی، وبَشِّرِ الذین آمنوا بأن لہم الفتح۔وأُوحِیَ فی ۲۰ أکتوبر سنۃ ۱۹۰۶ء: (ترجمۃ الہندی): اللّٰہ عدوّ الکاذب، وإنہ یوصلہ إلٰی جہنّم۔أُغرِقَت سفینۃُ الأذلّ۔إن بطشَ ربک لشدید۔وأوحی فی ۱؍فروری سنۃ ۱۹۰۷ء: (ترجمۃ الہندی): الآیۃ المنیرۃ وفتحُنا۔وأُوحِیَ فی ۷ فروری سنۃ ۱۹۰۷ء: العید الآخر۔تنال منہ فتحًا عظیمًا۔دَعْنِی أقتُلْ من آذاک۔إن العذاب مُربَّعٌ ومُدَوّرٌ۔وإنْ یّروا آیۃً یُعرضوا ویقولوا سحرٌ مستمِرٌّ۔وأُوحِیَ فی سابع مارچ سنۃ ۱۹۰۷ء: یأتون بنعشہ ملفوفاً۔۔نعیتُ۔۔من سابع مارچ إلی آخرہ: یعنی یُشاع موتُ ذالک الرجل إلٰی ہذا الوقت۔إن اللّٰہ مع الصادقین۔منہ (ضمیمہ حقیقۃ الوحی الاستفتاء۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۶۸۵ تا ۷۰۲) بقہ ترجمہ۔کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں۔‘‘اور ۱۰؍جولائی ۱۹۰۶ کو یہ الہام ہوا۔’’دیکھ میں آسمان سے تیرے لئے برسائوں گا اور زمین سے اگائونگا۔پر جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔اور ۲۳؍اگست ۱۹۰۶ کو اردو میں یہ الہام ہوا۔’’آج کل کوئی نشان ظاہر ہو گا۔‘‘ تا اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔اور ۲۷؍ستمبر کو ۱۹۰۶کو اردو میںیہ الہام ہوا۔’’اے مظفر تجھ پر سلام ہو کہ خدا نے تیری دعا سن لی۔میری نشانیاں ظاہر ہو گئیں اور خوشخبری دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے کہ بے شک ان کے واسطے فتح ہے۔اور ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء کو اردو میں وحی ہوئی ’’کاذب کا خدا دشمن ہے۔وہ اس کو جہنم میں پہنچائے گا۔کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے۔‘‘اور یکم فروری ۱۹۰۷ء کواردو میں وحی ہوئی’’روشن نشان‘‘ اور ’’ہماری فتح ہوئی۔‘‘ اور ۷ فروری ۱۹۰۷ء کو وحی ہوئی’’ایک اور عید ہے جس میں تو ایک بڑی فتح پائے گا۔مجھے چھوڑ تا مَیں اس شخص کو قتل کروں جو تجھے ایذا دیتا ہے۔دشمنوں کیلئے عذاب ہر چار طرف سے ہے اور ارد گر د سے گھیرے ہوئے ہے۔اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیںتوکہتے ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے۔اور ۷؍ مارچ ۱۹۰۷ء کو وحی ہوئی اس کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔میں نے ایک کاذب کی موت کی خبر دیتا ہوں۔سات مارچ سے آخر تک یعنی اس شخص ڈئوئی کی موت کی اس وقت مقررہ تک تشہیر کر دی جائے گی۔خدا سچوں کے ساتھ ہے۔منہ