مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 436
ہٰذا الخبیث الطیّباتُ، وسرّتْہ نجاسۃ الشرک والمفتریات۔وقد عرف الناظرون فی کلامہ توہین الإسلام فوق کلّ توہین، وشہد الشاہدون علٰی ملعونیّتہ فوق کل لعین، حتّی إنہ صار مثلًا بین الناس فی الشتم والسبّ، وما کان منتہیًا من المنع والذبّ۔وإذا باہلتُہ ودعوتہ للمباہلۃ لیَظہَر بموت الکاذب صدق الصادق من حضرۃ العزّۃ، فقال قائل من أہل أمریکۃ وطبع کلامہ فی جریدتہ، وتکلّم بلطیفۃٍ رائقۃٍ ونُکتۃٍ مضحکۃٍ فی أمر ڈوئی وسیرتہ، فکتب أنّ ڈوئی لن یقبل مسألۃ المباہلۃ، إلَّا بعد تغییر شرائط ہٰذہ المصارعۃ، فیقول: لا أقبل المباہلۃ، ولکن ناضِلونی فی التشاتم والتسابّ، فمن فاق حریفہ فی کثرۃ السبّ وشدّۃ الشتم فہو صادق، وحریفہ کاذبٌ من غیر الارتیاب۔وہٰذا قولصاحب جریدۃٍ کان تقصّٰی أخلاقَہ، وجَرّب ما یخرج من لسانہ وذاقَہ۔وکذالک قال کثیر من أہل الجرائد بقیہ ترجمہ۔اور اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے اس کو خنزیر کے نام سے موسوم فرمایا کیونکہ اس خبیث کو طیّبات ُبری لگتی تھیں۔اور شرک کی نجاست اور مفتریات اس کو خوش کرتی تھیں۔ناظرین نے اس کی باتوں میں اسلام کی حد درجہ توہین کو جان لیا ہے۔اور گواہوں نے ہر ملعون سے بڑھی ہوئی اس کی ملعونیت کی گواہی دی ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان سبّ و شتم میں ایک مثال بن گیا۔اوروہ محض روکنے اور منع کرنے سے رکنے والا نہیں تھا۔اور جب میں نے اس سے مباہلہ کیا اور اسے مباہلہ کی دعوت دی تاکہ کاذب کی موت کے ذریعہ ربّ العزت کی طرف سے صادق کا صدق ظاہر ہو تو اہل امریکہ میں سے ایک نے کہا اور اس کی بات اس کے اخبار میں طبع ہو چکی ہے اور اس نے ڈوئی کے معاملہ اور اس کی سیرت کے متعلق ایک خوب لطیفہ اور پرُ مزاح بات کی ہے۔اور اس (امریکی )نے لکھا کہ ڈوئی اس مباہلہ کے مسئلہ کو اس مقابلہ کی شرائط میں تبدیلی کے بعدہی قبول کرے گا۔اور وہ کہے گا کہ میں اس طرح کا مباہلہ منظور نہیں کرتا۔لیکن ہاں مجھ سے گالی گلوچ میں مقابلہ کر لو۔پس جو سبّ و شتم کی کثرت اور شدت میں اپنے حریف پر فوقیت لے گیا تو وہ سچا اور اس کا حریف بلا شک و شبہ جھوٹا ہو گا۔