مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 435
وخلاصۃ الکلام أنّ ڈوئی کان شرّ النّاس، وملعون القلب، ومثیل الخنّاس، وکان عدوّ الإسلام بل أخبث الأعداء ، وکان یرید أن یجیح الإسلام حتّی لا یبقی اسمہ تحت السّماء۔وقد دعا مرارًا فی جریدتہ الملعونۃ علٰی أہل الإسلام والملّۃ الحنیفیۃ، وقال: اللّٰہمّ، أَہْلِک المسلمین کلّہم، ولا تُبْقِ منہم فردًا فی إقلیم من الأقالیم، وأَرِنی زوالہم واستیصالہم وأَشِعْ فی الأرض کلّہا مذہب التثلیث وعقیدۃ الأقانیم۔وقال أَرْجُو أَنْ أریٰ موت المسلمین کلّہم وقَلْعَ دین الإسلام، وہٰذا أعظم مراداتی فی حیاتی، ولیس لی مراد فوق ہٰذا المرام۔وکلّ ہٰذہ الکلمات موجودۃ فی جرائدہ الّتی موجودۃ عندنا فی اللسان الإنکلیزیۃ، ویعلمہا من قرأہا من غیر الشکّ والشبہۃ۔فکفاکَ أیُّہا النّاظر لتخمین خُبث ہٰذا المفتری ہٰذہ الکلماتُ، ولذالک سمّاہ النبیّ صلی اللّٰہ علیہ خنـزیرًا بما ساءتْ اورخلاصہ کلام یہ کہ ڈوئی ایک بد ترین شخص ،دل کے اعتبار سے ملعون اور خنّاس شیطان کا مثیل تھا۔اور وہ اسلام کا دشمن بلکہ تمام دشمنوں میں سے خبیث تر ین تھا۔اور وہ چاہتا تھا کہ اسلام کو ایسے جڑ سے اکھاڑ دے کہ آسمان کے نیچے اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔اور اس نے اپنے ملعون اخبار میں متعدد بار مسلمانوں اور ملت حنیف کے لئے بد دعا کی۔اور کہا کہ اے اللہ تو تمام مسلمانوں کو ہلاک کردے اورملکوں میںسے کسی ملک میں ان کا فرد باقی نہ رہنے دے۔اور مجھے ان کا زوال او ر استیصال دکھا۔اور تمام روئے زمین پر تثلیث اور اقانیم (ثلاثہ ) کے عقیدہ کو پھیلا۔نیز اس نے کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ میں تمام مسلمانوں کی موت اور دین اسلام کی بیخ کنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔اور یہ میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔اس مقصد سے بڑھ کر میری کوئی اور آرزو نہیں ہے۔اور یہ سب کلمات اس کے ان انگریزی اخبارات میں پائے جاتے ہیں جو ہمارے پاس موجو د ہیں۔اور جو ان جرائد کو پڑھے گا اس کو یہ سب باتیں بلا شک و شبہ معلوم ہو جائیں گی۔پس اے غور کرنے والے تیرے لئے یہ کلمات اس مفتری کی خباثت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہیں