مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 426

وظنّ أنہ أمرٌ لا یُسأل عنہ، ویُزجّی حیاتہ فی التنعّم والرفاہۃ، ویزید فی العظمۃ والنباہۃ، بل سلک معہ طریقَ الکبر والنخوۃ، وما خاف عذاب حضرۃ العزّۃ۔ولا شکّ أنّ المفتری یؤخذ فی مآل أمرہ ویُمنع من الصعود، وتفترسہ غیرۃ اللّٰہ کالأُسُود، ویری یوم الہلاک والدّمار الموعود فی کتاب اللّٰہ العزیز الودُود۔إن الذین یفترون علی اللّٰہ ویتقوّلون، لا یعیشون إلَّا قلیلًا ثم یؤخذون، وتتبعہم لعنۃ اللّٰہ فی ہٰذہ وفی الآخرۃ، ویذوقون الہوان والخزی ولا یُکرَمون۔ألم یبلغک ما کان مآل المفترین فی الأوّلین؟ وإن اللّٰہ لا یخاف عقبی المتقوّلین، ویہزّ لہم حُسامہ، فیجعلہم من الممزَّقین۔ولمّا اقترب یوم ہلاکہ دعوتُہ للمباہلۃ، وکتبتُ إلیہ أنّ دعواک باطلٌ ولستَ إلَّا کذّابًا مفتریًا لجِیفۃِ الدنیا الدنیّۃ، ولیس عیسٰی إلَّا نبیًّا، ولستَ إلَّا متقوّلًا، ومن العامّۃ بقیہ ترجمہ۔میں گزارتا رہے گا اور وہ عظمت و شرف میں بڑھتا چلا جائے گا۔بلکہ اس کے ساتھ وہ کبر و نخوت کی راہ پر بھی چل پڑا اور ربّ العزت کے عذا ب سے نہ ڈرا۔اور اس میں کچھ شک نہیں کہ مفتری آخر کار پکڑا جاتا ہے اور اسے ترقی سے روک دیا جاتا ہے۔اور اللہ کی غیر ت اسے شیروں کی طرح چیر پھاڑ دیتی ہے۔اور وہ ہلاکت کا دن اور موعود تباہی کو دیکھ لیتا ہے۔اللہ غالب اور بہت پیار کرنے والے کی کتاب (قرآن کریم ) میں ہے کہ وہ لوگ جو اللہ پر افتراء کرتے ہیں اور جھوٹ باندھتے ہیں وہ تھوڑا ہی عرصہ زندہ رہتے ہیں اورپھر وہ پکڑے جاتے ہیں اور اللہ کی لعنت اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کا پیچھا کرتی ہے اور وہ ذلت اور رسوائی کا مزا چکھتے ہیں اور ان کی عزت نہیں کی جاتی۔کیا تجھے پہلے زمانے کے مفتریوں کے انجام کی خبر نہیں پہنچی ؟ اور یقینا اللہ کو افترا کرنے والوں کے انجام کی کچھ پرواہ نہیں۔اور وہ اپنی تلوار ان کے لئے سونتتا ہے اور انہیں پارہ پارہ کر دیتا ہے۔اور جب اس کی ہلاکت کا دن قریب آگیا تو میں نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا اور اسے لکھا کہ تیرا دعویٰ باطل ہے اور تو اس حقیر دنیا کے مردار کی خاطر محض کذاب اور مفتری ہے اور عیسٰی ؑ صرف ایک نبی ہے اور تو محض خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹا قول منسوب کرنے والا ، مفتری اور معمولی آدمی اور خود گمراہ اور گمراہ کرنے والے فرقے سے ہے۔پس اس ذات باری تعالیٰ سے ڈر جو تیرے جھوٹ کو دیکھ رہا ہے۔اور میں تجھے اسلام اور دین حق کی طرف اور جبروت اور