مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 424

حتی طَبّق الآفاق ذکرُہ، وسخّر فوجًا من النصاریٰ سِحْرُہ۔وکان یدَّعی الرسالۃ والنبوّۃ، مع إقرار ألوہیّۃ ابن مریم، ویسبّ ویشتم رسولنا الأکرم، وکان یدَّعی مقامات فائقۃ ومراتب عالیۃ، ویحسب نفسہ من کلّ نفس أشرف وأعظم۔وکان یزید یومًا فیومًا فی المالِ والشہرۃ والتابعین، وکان یعیش کالملوک بعد ما کان کالشحّاذین۔فالناظر من المسلمین فی ترقّیاتہ، مع افترائہ وتقوُّلہ، إن کان ضعیفًا۔۔ضلّ وحارَ، وإن کان عَرِیفًا لم یأمَن العثارَ۔وذالک أنہ کان عدوّ الإسلام، وکان یسبّ نبیَّنا خیرَ الأنام، ثمّ مع ذالک صعد فی الشہرۃ والتموّل إلٰی أعلی المقام، وکان یقول إنی سأقتل کلّ من کان من المسلمین، ولا أترک نفسًا من الموحّدین المؤ!منین۔وکان من الذین یقولون ما لا یفعلون، وعلا فی الأرض کفرعون ونسی الـمنون۔وکان یجعل النہارَ لنہب أموال الناس، واللیلَ للکأس، واجتمع إلیہ جہّال الیسوعیّین، وسفہاء المسیحیّین، فما زالوا یتعاطون أقداح الضلالۃ، ویصدّقون بقیہ ترجمہ۔دنیا کے کناروں تک پھیل گیا تھا۔اور اس کے جادو نے عیسائیوں کی ایک بہت بڑی جماعت کو تسخیر کر رکھا تھا۔اور وہ ابن مریم کی الوہیت کے اقرار کے ساتھ ساتھ اپنی رسالت اور نبوت کا مدعی بھی تھا۔اوروہ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلا کہتا اور گالیاں دیتاتھا۔اور وہ بلند مقامات اور مراتب عالیہ کا دعویدار تھا۔اور اپنے آپ کو ہر شخص سے زیادہ بزرگ و برتر سمجھتا تھا اور وہ روز بروز شہرت اور مال اور ماننے والوں کی تعداد میں بڑھ رہا تھا اور وہ گداگروں کی طرح تھا ، اس کے بعد بادشاہو ں جیسی زندگی بسر کرنے لگا۔اس کے افترا اور خدا پر جھوٹ گھڑنے کے باوجود اس کی ترقیوں کو مسلمانوں میں سے دیکھنے ولا اگر ضعیف( العقیدہ) ہو تا تو وہ گمراہ ہو جاتا اور نقصان اٹھاتا ، اور اگر وہ عالم ہوتا تو بھی لغزش سے محفوظ نہ رہتا۔او ر یہ اس لئے کہ وہ (ڈوئی ) اسلا م کا دشمن تھا اور وہ ہمارے نبی خیر الانام ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔بایں ہمہ وہ شہرت اور تمول میں اعلیٰ مقام تک ترقی کرتا رہا۔اور وہ یہ کہتا تھا کہ میں عنقریب ہر مسلمان کو قتل کروں گا اور کسی موحد مومن کو نہیں چھوڑوں گا۔اور وہ (ڈوئی ) ایسے لوگوں میں سے تھا جو کہتے ہیں کرتے نہیں۔اور اس نے زمین میں فرعون کی طرح سرکشی کی اور موت کو بھول گیا۔اس نے دن کو لوگوں کے مال لوٹنے اور رات کو مے نوشی کے لئے مختص کر رکھا تھا۔جاہل عیسائی اور ناسمجھ مسیحی اس کے گرد جمع ہو گئے وہ ضلالت کے جام لنڈھاتے رہے اور اپنی جہالت کی وجہ سے اس کے دعویٰ رسالت کی تصدیق کرتے رہے حالانکہ وہ دنیا کا غلام تھا نہ کہ آزاد۔اور وہ ایسا سیپ تھا جس میں موتی نہ