مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 420
مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اُس مُلک کے انگریزی اخباروں کو خبر دی گئی چنانچہ پایونیر نے (جو الہ آباد سے نکلتا ہے) پرچہ ۱۱؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اور سول اینڈ ملٹری گزٹ نے (جولاہور سے نکلتا ہے) پرچہ ۱۲؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اور انڈین ڈیلی ٹیلی گراف نے (جو لکھنؤ سے نکلتا ہے) پرچہ ۱۲؍مارچ ۱۹۰۷ء میں اس خبر کو شائع کیا ہے۔پس اس طرح پر قریباً تمام دنیا میں یہ خبر شائع کی گئی اور خود یہ شخص اپنی دنیوی حیثیت کی رو سے ایسا تھا کہ عظیم الشان نوابوں اور شاہزادوں کی طرح مانا جاتا تھا۔چنانچہ وِب نے جو امریکہ میں مسلمان ہو گیا ہے میری طرف اس کے بارہ میں ایک چٹھی لکھی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی اس ملک میں نہایت معززانہ اور شاہزادوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔اور باوجود اِس عزت اور شہرت کے جو امریکہ اور یورپ میں اُس کو حاصل تھی خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ہوا کہ میرے مباہلہ کا مضمون اُس کے مقابل پر امریکہ کے بڑے بڑے نامی اخباروں نے جو روزانہ ہیں شائع کردیا اور تمام امریکہ اور یورپ میں مشہور کر دیا اور پھر اس عام اشاعت کے بعد جس ہلاکت اور تباہی کی اُس کی نسبت پیشگوئی میں خبر دی گئی تھی وہ ایسی صفائی سے پوری ہوئی کہ جس سے بڑھ کر اکمل اور اتم طور پر ظہور میں آنا متصور نہیں ہو سکتا۔اُس کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر آفت پڑی۔اُس کا خائن ہونا ثابت ہوا اور وہ شراب کو اپنی تعلیم میں حرام قرار دیتا تھا مگر اُس کا شراب خوار ہونا ثابت ہو گیا۔اور وہ اُس اپنے آباد کردہ شہر صیحون سے بڑی حسرت کے ساتھ نکالا گیا جس کو اُس نے کئی لاکھ روپیہ خرچ کرکے آباد کیا تھا اور نیز سات کروڑ نقد روپیہ سے جو اس کے قبضہ میں تھا اُس کو جواب دیا گیا۔اور اُس کی بیوی اور اُس کا بیٹا اس کے دشمن ہو گئے اور اُس کے باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولدالزناہے۔پس اِس طرح پر وہ قوم میں ولد الزنا ثابت ہوا۔اور یہ دعویٰ کہ میں بیماروں کو معجزہ سے اچھا کرتا ہوں۔یہ تمام لاف وگزاف اُس کی محض جھوٹی ثابت ہوئی اور ہر ایک ذلّت اُس کو نصیب ہوئی اور آخر کار اُس پر فالج گِرا اور ایک تختہ کی طرح چند آدمی اُس کو اُٹھا کر لے جاتے رہے اور پھر بہت غموں کے باعث پاگل ہو گیا اور حواس بجانہ رہے۔اور یہ دعویٰ اُس کا کہ میری ابھی بڑی عمر ہے اور میں روز بروز جوان ہوتا جاتا ہوں اور لوگ بُڈھے ہوتے جاتے ہیں محض فریب ثابت ہوا۔آخرکار مارچ ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتہ میں ہی بڑی حسرت اور درد اور دکھ کے ساتھ مر گیا۔