مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 419
تازہ نشان کی پیشگوئی خدا فرماتا ہے کہ مَیں اک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہو گی۔وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہو گا ( یعنی ظہور اس کا صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہو گا) اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہو گا۔چاہیے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں اس کی طرف سے ہے۔مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاوے۔المشـــــــــــــــــــــــــــــتھر میرزا غلام احمد مسیح موعود۔مشتہرہ ۲۰؍ فروری ۱۹۰۷ء اب ظاہر ہے کہ ایسا نشان (جو فتح عظیم کا موجب ہے) جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور یورپ اور ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو سکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے۔۱؎ کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو اُن کے ظہور کی خبر نہ تھی۔لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشگوئی ظاہر ہو کر امریکہ میں جاکر ایسے شخص کے حق میں پورا ہوا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرد جانتا تھا اور اُس کے ۱؎ حاشیہ۔ڈوئی اس پیشگوئی کے بعد اس قدر جلد مر گیا کہ ابھی پندرہ دن ہی اس کی اشاعت پر گذرے تھے کہ ڈوئی کا خاتمہ ہو گیا پس ایک طالب حق کے لئے یہ ایک قطعی دلیل ہے کہ یہ پیش گوئی خاص ڈوئی کے بارے میں تھی کیونکہ اول تو اس پیشگوئی میں یہ لکھا ہے کہ وہ فتح عظیم کا نشان تمام دنیا کے لئے ہو گا اور دوسرے یہ لکھا ہے کہ وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے پس اس سے زیادہ عنقریب اور کیا ہو گا کہ اس پیشگوئی کے بعد بدقسمت ڈوئی اپنی زندگی کے بیس دن بھی پورے نہ کر سکا اور خاک میں جاملا جن پادری صاحبان نے آتھم کے بارے میں شورمچایا تھا اب ان کو ڈوئی کی موت پر ضرور غور کرنی چاہیے۔منہ