مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 28
زیر کی اورا علیٰ درجہ کا حافظہ اور اعلیٰ درجہ کی فیض رسانی اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور اعلیٰ درجہ کا احسان جن کے لئے نمونے اور نظیریں شرط ہیں۔پس اس قسم کی صفات فاضلہ میں مقابلہ اور موازنہ ہونا چاہیے نہ صرف ترک شر میں جس کا نام بشپ صاحب معصومیت ر کھتے ہیں کیونکہ نبیوںکی نسبت یہ خیال کرنابھی ایک گناہ ہے کہ انہوں نے چوری ڈاکہ وغیرہ کا موقع پا کر اپنے تئیں بچایا یایہ جرائم ان پر ثابت نہ ہو سکے بلکہ حضرت مسیح علیہ السّلام کایہ فرمانا کہ ’’ مجھے نیک مت کہہ‘‘ یہ ایک ایسی وصیّت تھی جس پر پادری صاحبوں کو عمل کرنا چاہیے تھا۔اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے درحقیقت شایق ہیں تو وہ اس مضمون کا اشتہار دے دیں کہ ہم مسلمانوں سے اسی طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے کمالات ایمانی و اخلاقی و برکاتی و تاثیراتی و قولی و فعلی و ایمانی و عرفانی و علمی و تقدسی اور طریق معاشرت کے رو سے کون نبی افضل و اعلیٰ ہے۔اگر وہ ایسا کریں اور کوئی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر ضرور جلسہ قرار دادہ پر حاضر ہو جائے گا ورنہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے جس کایہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کر لیں تو یہ شرط ضروری ہو گی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے۔راقم خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ ؍مئی ۱۹۰۰ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان (یہ اشتہار ۲۶ × ۲۰ ۴ کے چار صفحہ پر ہے ) (تبلیغ رسالت جلد۹ صفحہ ۳ تا ۱۱)