مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 407
بت تو ایسے خدا کو کون عارف قبول کر سکتا ہے۔پس سچی اور کامل شریعت وہی ہے جو زندہ خدا کو اس کی قدرتوں اور نشانوں کے ساتھ دکھلاتی ہے اور وہی ہے جس کے ذریعہ سے انسان شریعت کے دوسرے حصہ میں بھی کامل ہو سکتا ہے اور شریعت کا دوسرا ٹکڑہ یہ ہے کہ انسان ان تمام گناہوں سے پرہیز کرے جن کی جڑ بنی نوع پر ظلم ہے۔جیسے زنا کرنا ‘چوری کرنا ‘ خون کرنا‘ جھوٹی گواہی دینا ور ہر ایک قسم کی خیانت کرنا اور نیکی کرنے والے کے ساتھ بدی کرنا اور انسانی ہمدردی کا حق ادا نہ کرنا۔پس اس دوسرے حصہ شریعت کو حاصل کرنا بھی پہلے حصہ کے حصول پر موقوف ہے۔اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ پہلا حصہ یعنی خداشناسی کسی طرح ممکن نہیں جب تک خدا کو اس کی تازہ قدرتوں اور تازہ نشانوں کے ساتھ شناخت نہ کیا جاوے ورنہ بغیر اس کے خدا پرستی بھی ایک بت پرستی ہے کیونکہ جبکہ خدا محض ایک بت کی طرح ہے جو سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ کوئی قدرت دکھلا سکتا ہے تو اس میں اور ایک بت میں فرق کیا ہے۔زندہ خدا کی علامات چاہییں اور اگر وہ ہمارے سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ کوئی قدرت دکھلا سکتا ہے تو کیونکر معلوم ہو کہ وہ موجود ہے۔صرف اپنی خودتراشیدہ باتوں سے کیونکر اس کی ہستی ثابت ہو جبکہ ہر ایک انسان اپنی زندگی ثابت کرنے کا آپ ذمہ دار ہے تو پھر کیا وجہ کہ خدا اپنی زندگی ثابت نہیں کر سکتا۔کیا خدا انسان سے بھی زیادہ کمزور ہے یا کیا اس کی قدرت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔اور اگر اب اس میں کلام کرنے کی طاقت باقی نہیں رہی تو اس پر کیا دلیل ہے کہ پہلے وہ طاقت موجود تھی اور اگر وہ اس زمانہ میں بول نہیں سکتا تو اس پر کیا دلیل ہے کہ وہ اس زمانہ میں سن سکتا ہے اور دعائیں قبول کر سکتا ہے اور اگر کسی زمانہ میں اس نے اپنی قدرتیں ظاہر کی ہیں تو اب کیوں ظاہر نہیں کر سکتا تادہریوں کے منہ میں خاک پڑے۔پس اے عزیزو!وہ قادر خدا جس کی ہم سب کو ضرورت ہے وہ اسلام ہی نے پیش کیا ہے۔اسلام خدا کی قدرتوں کو ایسا ہی پیش کرتا ہے جیسا کہ وہ پہلے ظہور میں آئی تھیں۔یادرکھو اور خوب یاد رکھو کہ بغیر اس کے کہ خدا کی قدرتیں اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان ظاہر ہوں کوئی شخص خدا پر