مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 406
اور بھی ہے۔وہ پوشیدہ درپوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ ظاہر نہیں۔وہ اپنے ظہور میں سب سے زیادہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ پوشیدہ نہیں۔وہ آفتاب میں چمک رہا ہے اور چاند میں اس کے انوار ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ آفتاب ہے یا چاند ہے بلکہ یہ سب چیزیں اس کی مخلوق ہیں اور کافر ہے وہ شخص جو اس کو خدا کہے۔وہ نہاں درنہاں ہے پھر بھی سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے۔ہر ایک روح کو اسی سے قوتیں اور صفات ملی ہیں۔ہر ایک ذرہ نے اسی سے خواص پائے ہیں اور اگر وہ صفات اور قوتیں اور طاقتیں چھین لی جائیں تو پھر نہ روح کچھ چیز ہے اور نہ ذرہ کچھ حقیقت رکھتا ہے۔اس لئے انسان کی معرفت کا انتہائی نقطہ یہی ہے کہ یہ سب چیزیں اس کے ہاتھ سے نکلی ہیں اور خدا اور روحوں میں رشتہ محبت کا بھی اسی وجہ سے ہے کہ یہ سب چیزیں اس کے ہاتھ سے نکلی ہوئی ہیں اور اُسی نے اُن کی فطرت میںاپنی محبت کا نمک چھڑکا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو عشق الٰہی محال تھا کیونکہ جانبین میں کوئی تعلق نہ تھا۔بچہ ماں سے اسی وجہ سے محبت کرتا ہے کہ اس کے پیٹ سے نکلا ہے اور ماں بھی اسی وجہ سے اس سے محبت کرتی ہے کہ وہ اس کے جگر کا ٹکڑا ہے۔پس چونکہ ہر ایک روح خدا کے ہاتھ سے نکلی ہے اس لئے اس محبوب حقیقی کی طلب میں ہے۔پھر غلطی سے کوئی بت پرستی کرتا ہے۔کوئی سورج کو پوجتاہے۔کوئی چاند کے آگے جھکتا ہے۔کوئی پانی کا پرستار ہے کوئی انسان کو خدا جانتا ہے۔پس اس غلطی کی وجہ بھی اُس حقیقی محبوب کی طلب ہے جو انسان کی فطرت میں ہے جس طرح بچہ کبھی ماں کی طلب میں دھوکہ کھا کر کسی دوسری عورت سے چمٹ جاتا ہے اسی طرح تمام مخلوق پرست دھوکہ کھا کر دوسری چیزوں کی طرف جھک گئے ہیں۔خدا کی شریعت ان غلطیوں کو دور کرنے کے لئے آئی ہے اور خدا کی شریعت وہی ہے جو اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان غلطیوں کو دور کر سکتی ہے اور غلطیوں کو وہی شریعت دور کرے گی جو چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ اس محبوب حقیقی کا چہرہ دکھادے گی کیونکہ اگر کوئی شریعت تازہ نشان دکھلانے پر قادر نہیں تو وہ بھی ایک ُبت پیش کرتی ہے نہ خدا کو۔وہ خدا یا پرمیشر نہیں ہو سکتا جو اپنے ظہور کے لئے ہماری منطق کا محتاج ہے۔اگر خدا ایسا ہی مردہ اور قدرت کی علامات سے محروم ہے جیسا کہ