مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 27
شخص جو ایک پُر ثمر باغ کے پاس پاس جا رہا تھا اس نے اس باغ کا اس لئے بے اجازت پھل نہیںتوڑا کہ وہ ایک بڑا مقدس انسان تھا۔کیا وجہ کہ ہم یہ نہ کہیں کہ اس لئے نہیں توڑاکہ دن کا وقت تھا۔پچاس محافظ باغ میں موجود تھے اگر توڑتا تو پکڑا جاتا، مار کھاتا، بے عزت ہوتا۔اس قسم کی نبیوں کی تعریف کرنا اور بار بار معصومیت معصومیت پیش کرنا اور دکھلانا کہ انہوں نے ارتکاب جرائم نہیں کیا سخت مکروہ اور ترکِ ادب ہے۔ہاں ہزاروں صفات فاضلہ کی ضمن میں اگر یہ بھی بیان ہو تو کچھ مضایقہ نہیں مگر صرف اتنی ہی بات کہ اس نبی نے کبھی کسی بچے کا دو چار آنے کی طمع کے لئے گلا نہیں گھونٹا یا کسی اور کمینہ بد ی کا مرتکب نہیں ہوا یہ بلا شبہ ہجو ہے۔یہ ان لوگوں کے خیال ہیںجنہوں نے انسان کی حقیقی نیکی اور حقیقی کمال میں کبھی غور نہیں کی جس شخص کا نام ہم انسان کامل رکھتے ہیں۔ہمیں نہیں چاہیے کہ محض ترکِ شر کے پہلو سے اس کی بزرگی کا وزن کریں کیونکہ اس وزن سے اگرکچھ ثابت ہو تو صرف یہ ہو گا کہ ایسا انسان بد معاشوں کے گروہ میں سے نہیں ہے۔معمولی بھلے مانسوں میں سے ہے کیونکہ جیسا کہ ابھی مَیں نے بیان کیا ہے محض شرارت سے باز رہنا کوئی اعلیٰ خوبیوں کی بات نہیں۔ایسا تو کبھی سانپ بھی کرتاہے کہ آگے سے خاموش گذر جاتا ہے اور حملہ نہیں کرتا اور کبھی بھڑیا بھی سامنے سے سرنگوں گذر جاتا ہے۔ہزاروں بچے ایسی حالت میں مَر جاتے ہیں کہ کوئی ضرر بھی کسی انسان کو انہوں نے نہیں پہنچایا تھا۔بلکہ انسان کامل کی شناخت کے لئے کسب خیر کا پہلو دیکھنا چاہیے یعنی یہ کہ کیا کیا حقیقی نیکیاں اس سے ظہور میں آئیں اور کیا کیا حقیقی کمالات اس کے دل اور دماغ اور کانشنس میں موجود ہیں اور کیا کیا صفات فاضلہ اُس کے اندر موجود ہیں۔سو یہی وہ امر ہے جس کو پیش نظر رکھ کر حضرت مسیح کے ذاتی کمالات اور انواع خیرات اور ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور خیرات کو ہر ایک پہلو سے جانچنا چاہیے مثلاً سخاوت، فتوت، مواسات، حقیقی حلم جس کے لئے قدرتِ سخت گوئی شرط ہے ، حقیقی عفو جس کے لئے قدرتِ انتقام شرط ہے۔حقیقی شجات جس کے لئے خوفناک دشمنوں کا مقابلہ شرط ہے۔حقیقی عدل جس کے لئے ظلم شرط ہے ، حقیقی رحم جس کے لئے قدرتِ سزا شرط ہے اور اعلیٰ کی