مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 397
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ خدا سچے کا حامی ہو۔آمین اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب جو تخمیناً بیس برس تک میرے مریدوں میں داخل رہے، چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہو کر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام کذّاب مکّار شیطان دجّال شریر حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مُفسد اور مُفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمّہ نہیں لگایا۔گویا جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے۔ان تمام بدیوں کا مجموعہ میرے سوا کوئی نہیں گذرا۔اور پھر اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے شہروں کا دَورہ کر کے میری عیب شماری کے بارہ میں لیکچر دیئے اور لاہور اور امرت سر اور پٹیالہ اور دوسرے مقامات میں انواع و اقسام کی بدیاں عام جلسوں میں میرے ذمّہ لگائیں اور میرے وجود کو دنیا کے لئے ایک خطرناک اور شیطان سے بدتر ظاہر کر کے ہر ایک لیکچر میں مجھ پر ہنسی اور ٹھٹھا اُڑایا۔غرض ہم نے اُس کے ہاتھ سے وہ دُکھ اُٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں۔او رپھر میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ ’’یہ شخص تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ کذّاب اور مفتری ہے‘‘۔مَیں نے اس کی ان پیشگوئیوں پر صبر کیا مگر آج جو ۱۴؍ اگست ۱۹۰۶ء ہے پھر اس کا خط ہمارے دوست فاضل جلیل