مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 26

مجموعه اشتہارات ۲۶ جلد سوم ڈا کہ نہیں مارا کسی بچے کا گلا نہیں گھونٹا ۔ حَاشَا وَ كَلَّا یہ کمینہ باتیں ہرگز کمال کی وجوہ نہیں ہو سکتیں بلکہ ایسے ذکر سے تو ایک طور سے ہجو نکلتی ہے۔ مثلاً اگر میں یہ کہوں کہ میری دانست میں زید جو ایک شہر کا معزز اور نیک نام رئیس ہے فلاں ڈاکہ میں شریک نہیں ہے یا فلاں عورت کو جو چند آدمی زنا کے لئے بہکا کر لے گئے تھے اس سازش سے زید کا کچھ تعلق نہ تھا تو ایسے بیان میں میں زید کی ایک طریق سے ازالہ حیثیت عرفی کر رہا ہوں کیونکہ پوشیدہ طور پر پبلک کو احتمال کا موقع دیتا ہوں کہ وہ اس مادہ کا آدمی ہے گو اس وقت شریک نہیں ہے۔ پس خدا کے پاک نبیوں کی تعریف اسی حد تک ختم کر دینا بلا شبہ اُن کی ایک سخت مذمت ہے۔ اور اسی بات کو ان کا بڑا کمال سمجھنا کہ جرائم پیشہ لوگوں کی طرح ناجائز تکالیف عامہ سے انہوں نے اپنے تئیں بچایا اُن کے مرتبہ عالیہ کی بڑی بہتک ہے۔ اوّل تو بدی سے باز رہنا جس کو معصومیت کہا جاتا ہے کوئی اعلیٰ صفت نہیں ہے ۔ دنیا میں میں ہزاروں اس قسم کے کے لوگ لوگ موجود موجود ہیں کہ ہیں کہ ان کو موقع کو موقع نہیں نہیں لا ملا کہ وہ نقب لگائیں یا دھاڑا ماریں یا خون کریں یا شیر خوار بچوں کا گلا گھونٹیں یا بیچاری کمزور عورتوں کا زیور کانوں سے توڑ کر لے جائیں ۔ پس ہم کہاں تک اس ترک شر کی وجہ سے لوگوں کو اپنا محسن ٹھہراتے جائیں اور ان کو محض اسی وجہ سے انسان کامل مان لیں؟ ماسوا اس کے ترک شر کے لئے جس کو دوسرے لفظوں میں معصومیت کہتے ہیں بہت سے وجوہ ہیں ۔ ہر ایک کو یہ لیاقت کب حاصل ہے کہ رات کو اکیلا اُٹھے اور حربہ نقب ہاتھ میں لے کر اور لنگوٹی باندھ کر کسی کوچے میں گھس جائے اور عین موقع پر نقب لگا وے اور مال قابو میں کرے اور پھر جان بچا کر بھاگ جائے ۔ اس قسم کی مشقیں نبیوں کو کہاں ہیں اور بغیر لیاقت اور قوت کے جرات پیدا ہی نہیں ہو سکتی ۔ ایسا ہی زنا کاری بھی قوت مردی کی محتاج ہے اور اگر مرد ہو بھی تب بھی محض خالی ہاتھ سے غیر ممکن ہے۔ بازاری عورتوں نے اپنے نفس کو وقف تو نہیں کر رکھا وہ بھی آخر کچھ مانگتی ہیں۔ تلوار چلانے کے لئے بھی باز و چاہیے اور کچھ اٹکل بھی اور کچھ بہادری اور دل کی قوت بھی ۔ بعض ایک چڑیا کو بھی مار نہیں سکتے ۔ اور ڈاکہ مارنا بھی ایک بز دل کا کام نہیں ۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ مثلاً ایک