مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 393
دہلی کے سوا دوسری جگہ کے لوگ تو شاید احمد مسیح کے نام سے بھی واقف نہ ہوں۔پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک گمنام آدمی سے مُباہلہ کا کیا فائدہ ہو گا۔وہ اپنے مباحثہ کا اثر صرف اپنی ہی ذات تک مانتا ہے تو مباہلہ کا اثر اس کی قوم پر کیونکر سمجھا جاوے گا۔اور علاوہ بریں وہ تو پہلے ہی سے اندھا ہے اور احمد مسیح اپنی اس درخواست میں کوئی وجہ نہیں بتاتا کہ وہ میر قاسم علی صاحب سے کیوں مباہلہ نہیں کرتا۔جبکہ مباحثہ اسی سے کیا ہے۔ہمارے سیّد و مولا امام محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب مباہلہ کے لئے نصاریٰ نجران کو دعوت دی تھی تو وہ مباہلہ ایک قوم کے ساتھ تھا بلکہ ان میں دو بشپ بھی تھے۔اس لئے ایک فرد واحد سے مباہلہ کرنا خدا تعالیٰ کے اس آسمانی فیصلہ سے ہنسی کرنا ہے مَیں جیسا کہ ظاہر کر چکا ہوں۔اس سے پہلے مباہلہ کے ذریعہ پادریوں پر حجت پوری کر چکا ہوں۔دیکھو انجام آتھم صفحہ ۳۴ اور آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۳۷۳۔احمد مسیح کو اگر مباہلہ کرنا ہی ہے تو وہ میرے مرید میر قاسم علی صاحب سے بطور خود کرے جس نے اس کو دعوت کی ہے۔لیکن اگر میرے ساتھ ہی مباہلہ ضروری ہے تو مَیں اس کی درخواست کو اس صورت میں منظور کر سکتا ہوں جب لاہور، کلکتہ، مدراس اور بمبئی کے بشپ صاحبان جو اپنے عہدہ، واقفیت ، رسوخ اور اثر کی وجہ سے زیادہ قابل قدر ہیں ایسی درخواست کریں کیونکہ اس صورت میں مباہلہ کا اثر تمام قوم پر ہوگا نہ کہ فرد واحد پر جس کا اپنی قوم پر کچھ بھی اثر نہیں اور ایک ایسے شخص کے ساتھ(جو ایک کثیر التعداد جماعت کا امام اور مذہبی پیشو اہو) مباہلہ کرنے والے اسی قسم کے لوگ ہونے چاہییں۔پس اگر احمد مسیح میرے ساتھ ہی مباہلہ کا شایق ہے جیسا کہ اس کی درخواست ظاہر کرتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ مذکورہ بالا بشپ صاحبان کی دستخطی درخواست میرے پاس بھجوا دے۔مَیں ان کی درخواست کو انشاء اﷲ العزیز ردّ نہیں کروں گا۔اور اگر یہ خیال ہو کہ وہ چاروں یکجا جمع نہیں ہو سکتے تو مَیں یہ بھی ظاہر کر دیتاہوں کہ ایک جگہ جمع ہونے کی حاجت نہیں، تحریری مباہلہ شائع ہو سکتا ہے۔جب ان کی درخواست میرے پاس پہنچے گی تو پھر اخبارات میں مضمون مباہلہ فریقین کی طرف سے شائع ہو جائے گا اور اس کاانجام فیصلہ کن ہو گا۔مَیں محض حق رسانی کے