مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 392

اَللّٰھُمَّ انْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔آمِیْن اَللّٰھُمَّ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔آمِیْن بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ درخواست مباہلہ منظور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّّلَامُ عَلٰی خَیْرِ رُسُلِہٖ وَ اَفْضَلَ اَنْبِیَآئِہٖ مُحَمَّدُ نِ الْمُصْطَفَی الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْہِ اﷲُ وَالْمَلَائِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ۔اما بعد ۲؍ مئی ۱۹۰۶ء کی ڈاک میں ۱۰ بجے کے قریب دہلی سے آیا ہوا مجھے ایک پیکٹ ملا جو احمد مسیح واعظ ایس۔پی۔جی مشن دہلی نے شائع کیا ہے اور جس میں میرے ساتھ مباہلہ کی درخواست کی ہے اگرچہ ایک عرصہ گذر چکا ہے کہ میں اﷲ کے الہام اور ایماء کے موافق اس ذریعہ سے تمام پادریوں اور دوسرے مخالفین اسلام پر حجت پوری کر چکا ہوں اور کوئی شخص مُباہلہ کے لئے نہیں آیا۔پادریوں نے تو ہمیشہ یہ عذر کر کے ہی اس پیالہ کو ٹالا کہ ہمارے مذہب میں درست نہیں۔مگر اب معلوم نہیں کہ احمد مسیح نے اس کے جواز کا فتویٰ کہاں سے حاصل کیا۔بہرحال مجھے اس سے کچھ بحث نہیں۔میں نے اس درخواست مُباہلہ کو جو احمد مسیح عیسائی نے میری کسی درخواست کے بغیر ازخود شائع کی ہے غور سے پڑھا۔