مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 392
مجموعه اشتہارات ۳۹۲ ۲۷۸ جلد سوم اللَّهُمَّ انْصُرُ مَنْ نَصَرَ دِيْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ آمِين اللَّهُمَّ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِيْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ آمِين بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ درخواست مباہلہ منظور الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَيْرِ رُسُلِهِ وَ أَفْضَلَ أَنْبِيَائِهِ مُحَمَّدُ الْمُصْطَفَى الَّذِي يُصَلِّى عَلَيْهِ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ الْمُقَرَّبُونَ اما بعد ۲ رمئی ۱۹۰۶ ء کی ڈاک میں ۔ ابجے کے قریب دہلی سے آیا ہوا مجھے ایک پیکٹ ملا جو احمد مسیح واعظ ایں ۔ پی ۔ جی مشن دہلی نے شائع کیا ہے اور جس میں میرے ساتھ مباہلہ کی درخواست کی ہے اگر چہ ایک عرصہ گذر چکا ہے کہ میں اللہ کے الہام اور ایماء کے موافق اس ذریعہ سے تمام پادریوں اور دوسرے مخالفین اسلام پر حجت پوری کر چکا ہوں اور کوئی شخص مباہلہ کے لئے نہیں آیا۔ پادریوں نے تو ہمیشہ یہ عذر کر کے ہی اس پیالہ کو ٹالا کہ ہمارے مذہب میں درست نہیں ۔ مگر اب معلوم نہیں کہ احمد مسیح نے اس کے جواز کا فتوی کہاں سے حاصل کیا۔ بہر حال مجھے اس سے کچھ بحث نہیں۔ میں نے اس درخواست مباہلہ کو جو احمد مسیح عیسائی نے میری کسی درخواست کے بغیر از خود شائع کی ہے غور سے پڑھا۔