مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 389
اس سے بھاگتا ہے۔اس صورت میں وہ بے خبر کیوں ہو سکتے ہیں۔ماسوائے اس کے جبکہ تمام دنیا کے زلزلوں کی نسبت ان زلازل سے پہلے جواب ظہور میں آئے میری پیشگوئیاں شائع ہو چکی ہیں اور قبل واقع ہونے ان پیشگوئیوں کے انگریزی میں وہ رسالے میری جماعت کے لوگوں کو جو انگریز ہیں اور امریکہ کے بعض حصوّں میں رہتے ہیں۔پہنچ چکے ہیں۔اور اس ملک میں عام طور پر بھی وہ رسالہ شائع ہو چکے ہیں تو اس صورت میں امریکہ کے لوگ ان پیشگوئیوں سے بے خبر کیونکر ہو سکتے ہیں۔ماسوا اس کے ان ممالک میں محض قہری طور پر زلزلے آئے ہیں۔اور چونکہ ان زلازل کی نسبت پیشگوئیاں پہلے ہو چکی ہیں۔اس لئے وہ لوگ اس نشان سے انکار نہیں کر سکتے۔ہاں جو موتیں ان میں واقع ہوئی ہیں۔وہ ان کے گناہوں اور فسق و فجور کی وجہ سے ہیں اور یہ زلزلے میری طرف سے ان کو رہنمائی کرتے ہیں۔کیونکہ میں نے ہی قبل از وقت ان کو ان آفات کی خبر دی ہے۔غرض ہلاک ہونے والے اپنے سابق گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور جنہیں پیشگوئی کی خبر ملے گی۔ان کے لئے وہ نشان ہوا۔اگر وہ اس نشان کوٹال دیں گے تو پھر کوئی اور عذاب آئے گا۔اب جبکہ یہ دس۱۰ نشان تازہ بتازہ ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہو چکے ہیں اور دشمنوں کو بہت کوفت اور ہم و غم پہنچا ہے۔تو مذکورہ بالا الہام میں خدا تعالیٰ پیشگوئی کے طور پر فرماتا ہے کہ ایک ناگوار امر ظاہر ہو گا۔جو کسی قدر دشمنوں کی خوشی کا باعث ہو جائے گا۔معلوم نہیں کہ وہ کیا امر ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی ہماری عادت ہے کہ کبھی ہم دشمن دین کو بھی خوش کر دیا کرتے ہیں جیسا کہ خادمان دین کو خوش کرتے ہیں۔لیکن انجام پرہیزگاروں کے لئے ہوتا ہے۔وَالسَّـلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشتھر خاکسار مرزا غلام احمد مسیح موعود (الحکم مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۰،۱۱)