مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 25

کہ ایک شخص شراب نہیں پیتا، رہزنی نہیں کرتا، ڈاکہ نہیں مارتا ،خون نہیں کرتا،جھوٹی گواہی نہیں دیتا۔ایسا شخص صرف اس قسم کی معصومیت کی وجہ سے انسان کامل ہونے کا ہرگز مستحق نہیں ہو سکتا اور نہ کسی حقیقی اور اعلیٰ نیکی کا مالک ٹھہر سکتا ہے۔مثلاً اگر کوئی کسی کو اپنا یہ احسان جتلائے کہ باوجودیکہ مَیں نے کئی دفعہ یہ موقع پایا کہ تیرے گھر کو آگ لگا دوں اور تیرے شیر خوار بچے کا گلا گھونٹ دوں مگر پھر بھی مَیں نے آگ نہیں لگائی اور نہ تیرے بچے کا گلا گھونٹا۔تو ظاہر ہے کہ عقلمندوں کے نزدیک یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں سمجھی جائے گی اور نہ ایسے حقوق اورفضائل کو پیش کرنے والا کوئی بھلا مانس انسان خیال کیا جائے گا۔ورنہ ایک حجام اگر یہ احسان جتلا کر ہمیں ممنون بنانا چاہے کہ بالوں کے کاٹنے یا درست کرنے کے وقت مجھے یہ موقعہ ملا تھا کہ میں تمہارے سر یا گردن یا ناک پر اُسترہ ما ردیتا مگر مَیں نے یہ نیکی کی کہ نہیں مارا تو کیا اس سے وہ ہمارا اعلیٰ درجہ کا محسن ٹھیر جائے گا اور والدین کے حقوق کی طرح اس کے حقوق بھی تسلیم کئے جائیں گے؟ نہیں بلکہ وہ ایک طور کے جُرم کا مرتکب ہے جو اپنی ایسی صفات ظاہر کرتا ہے اور ایک دانشمند حاکم کے نزدیک ضمانت لینے کے لائق ہے۔غرض یہ کوئی اعلیٰ درجہ کا احسان نہیں ہے کہکسی نے بدی کرنے سے اپنے تئیں بچائے رکھا کیونکہ قانون سزا بھی تو اسے روکتا تھا مثلاً اگر شریر نقب لگائے یا اپنے ہمسایہ کا مال چرانے سے رُک گیا ہے تو کیا اس کی یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ اس شرارت سے باز رہ کر اس سے نیکی کرنا چاہتا تھا بلکہ قانون سزا بھی تو اسے ڈرا رہا تھا کیونکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر مَیں نقب زنی کے وقت یا کسی کے گھر میں آگ لگانے کے وقت یا کسی بے گناہ پر پستول چھوڑنے کے وقت یا کسی بچے کا گلا گھونٹنے کے وقت پکڑا گیا تو پھر گورنمنٹ پُوری سزا دے کر جہنم تک پہنچائے گی۔غرض اگر یہی حقیقی نیکی اور انسان کا اعلیٰ جوہر ہے تو پھر تمام جرائم پیشہ ایسے لوگوں کے محسن ٹھہر جائیں گے جن کو انہوں نے کوئی ضرر نہیں پہنچایا۔لیکن جن بزرگواروں کو ہم انسان کامل کا خطاب دینا چاہتے ہیں کیا ان کی بزرگی کے اثبات کے لئے ہمیں یہی وجوہ پیش کرنے چاہییں کہ کبھی انہوں نے کسی شخص کے گھر کو آگ نہیں لگائی۔چوری نہیںکی، کسی بیگانہ عورت پر حملہ نہیں کیا،