مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 376

کرتا ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ اس شخصکا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔جو شخص مجھے بُرا کہتا یا لعن طعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الٰہی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لانا سخت معصیت ہے۔ایسے موقع پر درگذر کرنا اور نادان دشمن کے حق میں دُعا کرنا بہتر ہے۔کیونکہ اگر وہ لوگ مجھے جانتے کہ مَیں کس کی طرف سے ہوں تو ہرگز بُرا نہ کہتے وہ مجھے ایک دجّال اور مفتری خیال کرتے ہیں۔مَیں نے جو کچھ اپنی نسبت دعویٰ کیا اور جو کچھ اپنے مرتبہ کی نسبت کہا وہ مَیں نے نہیں کہا بلکہ خدا نے کہا۔پس مجھے کیا ضرورت ہے کہ ان بحثوں کو طول دوں اگر میں درحقیقت مفتری اور دجّال ہوں اور اگر درحقیقت مَیں اپنے ان مراتب کے بیان کرنے میں جو مَیں خدا کی وحی کی طرف اُن کو منسوب کرتا ہوں کاذب اور مفتری ہوں تو میر ے ساتھ اس دنیا اور آخرت میں خدا کا وہ معاملہ ہوگا جو کاذبوں اور مفتریوں سے ہوا کرتا ہے کیونکہ محبوب اور مرد ود یکساں نہیں ہوا کرتے۔سو اے عزیزو! صبر کرو کہ آخر وہ امر جو مخفی ہے کھل جائے گا۔خدا جانتا ہے کہ مَیں اس کی طرف سے ہوں اور وقت پر آیا ہوں۔مگر وہ دل جو سخت ہو گئے اور وہ آنکھیں جو بند ہو گئیں مَیں ان کا کیا علاج کر سکتا ہوں۔خدا میری نسبت اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔‘‘ پس جبکہ خدا نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ زور آور حملوں سے میری سچائی ظاہر کرے گا تو اس صورت میں کیا ضرورت ہے کہ کوئی شخص میری جماعت میں سے خدا کا کام اپنے گلے ڈال کر میرے مخالفوں پر ناجائز حملے شروع کرے۔نرمی کرو اور دعا میں لگے رہو اور سچی توبہ کو اپنا شفیع ٹھہرائو اور زمین پر آہستگی سے چلو۔خدا کسی قوم کا رشتہ دار نہیں ہے۔اگر تم نے اس کی جماعت کہلا کر تقویٰ اور طہارت کو اختیار نہ کیا اور تمہارے دلوں میں خوف اور خشیت پیدا نہ ہوا تو یقینا سمجھو کہ خدا تمہیں مخالفوں سے پہلے ہلاک کرے گا کیونکہ تمہاری آنکھ کھولی گئی اور پھر بھی تم سو گئے اور یہ مت خیال کرو کہ خدا کو تمہاری کچھ حاجت ہے۔اگر تم اُس کے حکموںپر نہیں چلو گے، اگر تم اس کی حدود کی عزت نہیں کرو گے تو وہ