مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 375
وجودتھے۔مومن بننا کوئی امر سہل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کی نسبت فرماتا ہے:۔ ۔۱؎مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کوخدا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دُور تر لے جاتے ہیں۔لیکن بد نصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔دُنیاکی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہّر تھا اور بلا شبہ وہ اُن بر گزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہ سردارنِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ِ ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہٰی اور صبراور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ ٔحسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت ِ الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دُنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔دُنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دُور ہیں۔یہی وجہ حسینؓ کی شہادت کی تھی۔کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور بر گزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسینؓ سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینرضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو اَئمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے۔وہ اپنے ایمان کو ضائع