مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 349

سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے۔میرے مُنہ پر یہ الہام الہٰی تھا۔کہ موتا موتی لگ رہی ۱؎ ہے اور مجھے دکھایا گیا کہ ملک عذاب الٰہی سے مٹ جانے کو ہے۔نہ مستقل سکونت امن کی جگہ رہے گی نہ عارضی سکونت۔مقاموں پر اور عارضی سکونت گاہوں پر آفت آئے گی۔اور پھر مارچ کے مہینہ میں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک وحی سے میرے پر ظاہر کیا کہ مکذّبوں کو ایک نشان دکھایا جائے گا۔اور یہ پیشگوئی بھی اسی الحکم ۲۴ ؍مارچ میں شائع ہو چکی ہے اب اے عزیزو! سوچ لو کہ یہ زلزلہ جو ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کی صبح کو اس ملک میں ظاہر ہوا وہی نشان نہیں ہے جس کی خدا نے پہلے سے خبر دی ہے دیکھو کتابوں میں لکھا گیا تھا کہ مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان میں کسوف خسوف ہوگا۔اور مسیح موعود کی نسبت خود وعیسائی صاحبوں کی انجیل میں ہے کہ مسیح کے وقت میں مری پڑے گی۔یعنی طاعون۔اور ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر چڑھائی کرے گا اور سخت زلزلے آئیں گے۔پس تم نے ان علامتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔پھر جبکہ تمام نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور ان دونوںمنصبوں کا مدّعی مَیں ہوں جو تم میں اس وقت پچیس سال سے موجود ہوں۔پس میرے بعد کس کا انتظار کرو گے؟ان تمام علامتوں کا مصداق تووہ ہے جو ان نشانوں کے ظہور کے وقت موجود ہے۔نہ وہ کہ جس کا ابھی دنیا میں نام و نشان نہیں۔یہ عجیب سخت دلی ہے جو سمجھ میں نہیں آتی۔جبکہ میرے دعویٰ کے ساتھ سب نشان ظاہر ہو چکے اور میری مخالفت میں کوششیں بھی ہو کر ان میں نامرادی اور ناکامی رہی مگر پھر بھی انتظار کسی اور کی ہے؟ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نہ جسمانی طور پر آسمان سے اترا ہوں اور نہ مَیںدنیا میں جنگ اور خونریزی کرنے کے لئے آیا ہوں مگر مَیں خدا کی طرف سے ہوں۔مَیں یہ پیشگوئی کرتاہوں کہ میرے بعد قیامت تک کوئی ایسا مہدی نہیں آئے گا جو جنگ اور خون ریزی سے دنیا ؂1۔ریوی آف ریلیجنز بابت ماہ مارچ 1905ء کے صفحہ 130 پر بھی یہ الہام شائع ہو چکا ہے۔منہ