مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 348
کیونکہ انہوں نے جھوٹ سے اس قدر دوستی کی کہ سچائی کو اپنے پائوں کے نیچے پامال کرنا چاہا۔پس خدا فرماتا ہے کہ مَیں نے اب ارادہ کیاہے کہ اپنے غریب گروہ کو ان درندوں کے حملوں سے بچائوں اور سچائی کی حمایت میں کئی نشان ظاہر کروں۔اور وہ فرماتا ہے کہ ’’ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیانے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ پس تم سوچ کر دیکھو کہ یہ دن کیسے ہیں جو تم دیکھ رہے ہو۔سچ کہو کہ کیا تمہارے باپ دادوں نے سُنا تھا کہ جس زور سے اب ملک کو طاعون کھا رہی ہے کبھی پہلے بھی ایسا زور ہوا تھا۔اور جس طرح ابھی ۴ ؍اپریل ۱۹۰۵ء کو ایک شدید زلزلہ نے تمہارے دلوں کو ہلا دیا اور عام نقصان پہنچا دیا اور لوگوں کو دیوانہ سا کر دیا۔کبھی پہلے بھی تم نے یا تمہارے بزرگوں نے اس ملک میں دیکھا تھا؟ اور یا د رکھو کہ یہ تمام واقعات صرف تکلّف اور بناوٹ سے پیشگوئیاں قرار نہیں دیئے گئے بلکہ سالہا سال ان کے وجود سے پہلے براہین احمدیہ میں خبر دی گئی تھی اور ایسا ہی دوسری کتابوں میں جو میری تالیف ہیں یہ خبریں شائع ہو چکی ہیں اور یہ تو پُرانی باتیں ہیں۔ممکن ہے کہ اکثر لوگوں کو بھول گئی ہوں گی کیونکہ غفلت اور عداوت اور بد ظنی یہ تینوں جس جگہ اکٹھی ہو جائیں وہاں حافظہ کب درست رہ سکتا ہے خدا کے وعدے بھی ایمانداری سے ہی یا د رہتے ہیں۔ورنہ جس شخص کا دل ایمان سے خالی ہو وہ ہزار نشانوں کو بھی آنکھوں سے دیکھ کر ایسا دل سے اُتار دیتا ہے کہ جیسا کہ تنکا توڑ کر پھینک دیا جائے۔غرض مَیں اس وقت پرانی پیشگوئیوں پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ مَیں اُن پیشگوئیوں کو پیش کرتا ہوں جن کے شائع کئے جانے پر قریباً ایک مہینہ گذرا ہے۔دیکھو میرا اشتہار الوصیت جس کو مَیں نے ۲۷؍ فروری ۱۹۰۵ء کو شائع کیا تھا۔یہی اشتہار الحکم نمبر ۷ جلد۹کے صفحہ ۱۱ پر ۲۸ ؍فروری ۱۹۰۵ء کو شائع ہوا۔اور پھر دوبارہ الحکم مورخہ ۲۴ ؍مارچ ۱۹۰۵ء کے صفحہ ۲ کالم ۲ میں وہی الہام شائع ہوا۔ان پیشگوئیوں میں ایک خبر کے الفاظ یہ ہیں کہ ۲۶ ؍فروری ۱۹۰۵ء کی رات کو جس کی صبح کو ۲۷ ؍فروری ۱۹۰۵ء تھی میں نے بطور کشف دیکھا کہ دردناک موتوں