مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 21

مجموعه اشتہارات ۲۱ جلد سوم زبانی تقریروں میں ہرگز ہرگز کسی دوسرے مذہب کا صراحةً یا اشارہ ذکر نہ کرے ہاں اختیار ہے کہ جس قدر چاہے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اس صورت میں نئے نئے کینوں کی تخم ریزی موقوف ہو جائے گی اور پرانے قصے بھول جائیں گے اور لوگ باہمی محبت اور مصالحت کی طرف رجوع کریں گے اور جب سرحد کے وحشی لوگ دیکھیں گے کہ قوموں میں اس قدر با ہم انس اور محبت پیدا ہو گیا ہے تو آخر وہ بھی متاثر ہو کر عیسائیوں کی ایسی ہی ہمدردی کریں گے جیسا کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کی کرتا ہے اور دوسری تدبیر یہ ہے کہ اگر پنجاب اور ہندوستان کے مولوی در حقیقت مسئلہ جہاد کے مخالف ہیں تو وہ اس بارے میں رسالے تالیف کر کے اور پشتو میں ان کا ترجمہ کرا کر سرحدی اقوام میں مشتہر کریں بلا شبہ ان کا بڑا اثر ہوگا ۔ مگر ان تمام باتوں کے لئے شرط ہے کہ سچے دل اور جوش سے کارروائی کی جائے نہ نفاق سے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى۔ المشتهر خاکسار مرزاغلام احمد مسیح موعود عفی عنہ از قادیان المرقوم ۲۲ رمئی ۱۹۰۰ء ( گورنمنٹ انگریزی خ ریزی اور جہاد مطبوعه ۲۲ مئی ۱۹۰۰ ء صفحه ۱ تا ۲۲ - روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۳ تا ۲۲) ا