مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 336

یہ خطوط مجھے ایسے وقت ملے جبکہ مَیں کتاب نزول المسیح لکھ رہا تھا سو وہ خطوط مَیں نے کتاب نزول المسیح میںدرج کئے۔ایسا ہی ایڈیٹر الحکم اخبار نے بھی ان خطوط کی بنیاد پر ایک مضمون اپنے اخبار میں معہ نقل خطوط درج کیا۔اخبار الحکم کے جواب میں ایک مضمون مولوی کرم دین کے نام سے سراج الاخبار جہلم مورخہ ۶؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء اور ایک قصیدہ مولوی مذکور کی طرف سے سراج الاخبار مورخہ ۳ ا؍اکتوبر ۱۹۰۲ء میںشائع کیا جس میں اس نے یہ ظاہر کیا کہ یہ خطوط جعلی اور جھوٹے ہیں۔اس میں یہ بھی لکھا کہ مرزا غلام احمد یعنی راقم کی ملہمیت کی آزمائش کے لئے مَیں نے اسے دھوکا دیا اور خلاف واقعہ خطوط لکھے او ر لکھائے اور ایک خام نویس طفل کے ہاتھ سے نوٹ لکھا کر ان کو محمد حسن فیضی کے نوٹ ظاہر کئے۔پھر اس دھوکے کے ذریعے چھ روپے بھی حاصل کئے۔ا ور راقم مضمون نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ سراج الاخبار کے ان مضامین میں میری نسبت سخت الزام لگائے اور یہ شائع کیا کہ گویا مَیں جو بحیثیت ایک مامور من اللہ اور مصلح ہونے کے ایک کام کر رہا ہوں۔یہ تمام کام میرا مکرو فریب ہے اور گویا مَیں اپنے دعوٰی میںکذّاب اور مفتری ہوں۔پس چونکہ یہ تحریر اس کی میری ایک کثیر جماعت پر جو اَب خدا تعالیٰ کے فضل سے دو لاکھ سے بھی زیادہ ہے بہت ہی بُرا اثر ڈالتی تھی اور پبلک کی نگاہ مجھے جعلساز اور فریبی اور قوم کو دھوکا دینے والا اور سخت بد چلن قرار دیتی تھی۔اور اس بے جا حملہ سے ہزاروں آدمیوں کی رُوحانیت کا خون ہوتا تھا اس لئے مَیں نے اس خطرناک حملہ کا دفعیہ ضروری سمجھا۔سو اگرچہ شرعاً و قانوناً اس وقت میرا حق تھا کہ مَیں اپنی بریّت ثابت کرانے کے لئے ازالہ حیثیت عرفی کا مدعی ہو کر عدالت کی طرف رجوع کرتا لیکن مَیںنے صبر کیا اور منتظر رہا کہ مولوی کرم دین خود اس مضمون کی تردید کرے۔لیکن جب تین ماہ سے زیادہ گذر گئے اور اس نے کوئی تردید نہ کی تو مَیں نے اس تہمت کو اپنے پر سے دور کرنے کے لئے اس قدر کافی سمجھا کہ اپنی کتاب مواہب الرحمن میں جو کرم دین کے مضامین کے تین ماہ بعد شائع ہوئی اس قدر اشارہ کردوں کہ یہ شخص جو مجھ پر الزام لگانے والا ہے اور میری اہانت کرتا ہے خود ہی کذّاب اور کمینہ اور