مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 329
دے گا۔سو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جاوے گی۔مگر ابھی تک یہ حال ہے کہ اگر مَیں ایک تھوڑی سی بات بھی اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے جماعت کے آگے پیش کرتا ہوں تو ساتھ ہی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ مبادا اس بات سے کسی کو ابتلا پیش نہ آوے۔اب ایک ضروری بات جو اپنی جماعت کے آگے پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ لنگر خانہ کے لئے جس قدر میری جماعت وقتاً فوقتاً مدد کرتی رہتی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ہاں اس مدد میں پنجاب نے بہت حصہ لیا ہوا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ پنجاب کے لوگ اکثر میرے پاس آتے جاتے ہیں۔اور اگر دلوں میں غفلت کی وجہ سے کوئی سختی آ جائے تو صحبت اور پے در پے ملاقات کے اثر سے وہ سختی بہت جلد دُور ہو تی رہتی ہے۔اس لئے پنجاب کے لوگ خاص کر بعض افراد اُن کے محبت اور صدق اور اخلاص میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔اور اسی وجہ سے ہر ایک ضرورت کے وقت وہ بڑی سرگرمی دکھلاتے ہیں اور سچی اطاعت کے آثار اُن سے ظاہر ہوتے ہیں۔اور یہ ملک دوسرے ملکوں سے نسبتاً کچھ نرم دل بھی ہے۔باایں ہمہ انصاف سے دُور ہو گا اگر مَیں تمام دُور کے مُریدوں کو ایسے سمجھ لوں کہ وہ ابھی اخلاص اور سرگرمی سے کچھ حصہ نہیں رکھتے کیونکہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جس نے جاں نثاری کا یہ نمونہ دکھایا وہ بھی تو دُور کی زمین کا رہنے والا تھا۔جس کے صدق اور وفا اور اخلاص اور استقامت کے آگے پنجاب کے بڑے بڑے مخلصوں کو بھی شرمندہ ہونا پڑتا ہے کہ وہ ایک شخص تھا کہ ہم سب سے پیچھے آیا اور سب سے آگے بڑھ گیا۔اسی طرح بعض دُور دراز ملک کے مخلص بڑی بڑی خدمت مالی کر چکے ہیں اور ان کے صدق و وفا میں کبھی فتور نہ آیا۔جیسا کہ اخویم سیٹھ عبدالرحمن تاجر مدراس اور چند ایسے اور بقیہ حاشیہ: میں اور الحکم 17/ جنوری 1903ء اور البدر 16/ جنوری 1903ء کالم 2 میں شائع ہو چکی ہے جو مولوی صاحب کے مارے جانے کے بارے میں ہے۔اور وہ یہ ہے قُتِلَ خَیْبَۃً و زِیْدَ ھَیْبَۃً یعنی ایسی حالت میں مارا گیا کہ اس کی بات کو کسی نے نہ سنا اور اس کا مارا جانا ایک ہیبت ناک امر تھا یعنی لوگوں کو بہت ہیبت ناک معلوم ہوا اور اس کا بڑا شور دلوں پر ہوا۔منہ