مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 321

اپنے مزعومہ پیغمبری مرتبہ کے لئے رنگارنگ کا ایسا لباس بنوایا ہوا تھا جو یوسف یا ہارون نے کبھی نہ پہنا ہو گا……… شہر صیہون کے لئے اور اپنی ذاتی شان و شوکت کے لئے اس نے ان اموال کو جو اس کی تحویل میں دیئے گئے تھے۔ناجائز طور پر استعمال کیا۔‘‘ انسائیکلوپیدیا آف برٹینیکا میں لکھا ہے:۔’’اپریل ۱۹۰۶ء میں ڈوئی کے اقتدار کے خلاف شہر صیحون میں بغاوت ہو گئی۔اور اس پر غبن اور تعدد ازدواج کا الزام لگایا گیا اور اس کی بیوی اور اس کے لڑکے کی رضامندی سے اسے معزول کر دیا گیا۔اب ڈوئی کی صحت تباہ ہو چکی تھی اور وہ بدیہی طور پر پاگل ہو چکا تھا اس حالت میں اس پر فالج کا حملہ ہوا۔جس کے باعث مارچ ۱۹۰۷ء میں وہ شہر صیحون میں مر گیا۔‘‘ یہ تو ڈوئی کا انجام ہوا۔اب پگٹ کے متعلق سنیے:۔پگٹ لنڈن کا ایک پادری تھا۔جس نے دعویٰ کیا کہ وہ مسیح موعود ہے۔چند آدمی اس کے ساتھ ہو گئے۔اس کا ایک ٹائپ شدہ اشتہار مفتی محمد صادق صاحب کے نام آیا تھا۔مفتی صاحب نے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیا۔تب حضور ؑنے ایک چھوٹا سا اشتہار صرف ایک صفحہ کا لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو دیا کہ اس کا انگریزی ترجمہ کر کے اور چھپوا کر ولایت بھیج دیں اس اشتہار میں حضور ؑ نے لکھا تھا کہ تمہارے دعویٰ کا اشتہار ہمارے سیکرٹری کے پاس پہنچا ہے۔تم اس دعویٰ میں جھوٹے ہو۔اگر طاقت رکھتے ہو تو میرا مقابلہ کرو۔خدا نے مجھ کو بتایا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور اسلام سچا دین ہے۔یہ اشتہار جب اس کو پہنچا تو اس نے خاموشی اختیار کر لی۔اس اشتہار کو ولایت کے اخباروں نے بھی چھاپا۔ان دنوں میں ایک عورت اس کے پاس رہتی تھی اس کے ساتھ اس کا تعلق ہو گیا۔اور اس کی بدنامی کی خبریں اخباروں میں شائع ہوئیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اشتہار کے پہنچنے کے بعد وہ خاموش ہو گیا۔اسی خاموشی میں ہی وہ فوت ہو گیا اور اس کی کوئی جماعت نہ بنی۔(عبد اللطیف بہاولپوری)