مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 320
’’وہ شہر صیحون جس کے متعلق ڈوئی کا دعویٰ تھا کہ مسیح اسی شہر میں نازل ہو گا اور اس کے لئے اس نے ۶۵۰۰ ایکڑ زمین خریدی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اس کا ڈیزائن دس لاکھ آدمی کی سکونت گاہ ہو گا اور اسے اس کا بانی دنیا کا دارالحکومت بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘ (رسالہ منسی میگزین (Munseys Magazine) بحوالہ عبرتناک انجام صفحہ۴۰) صیحون سے باہر قدم رکھتے ہی اس کے مریدوں میں بغاوت پھیل گئی۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ نہایت ناپاک اور سیاہ کار انسان ہے۔مریدوں کو شراب پینے سے روکتا۔مگر خود گھر میں شراب پیا کرتا تھا۔بعض کنواری لڑکیوں سے اس کے ناجائز تعلقات ثابت ہوئے اور تقریباً پچاس لاکھ روپے کی خیانت بھی ثابت ہوئی۔یہ رقوم بطور تحائف صیحون کی خوبصورت عورتوں کو دیا کرتا تھا۔ڈوئی ان الزامات کی بریت ثابت نہ کر سکا۔اس انکشاف سے اس کے خلاف نفرت انتہاء کو پہنچ گئی۔اس کے اور بھی بہت سے جھوٹ اور غلط بیانیاں اور بددیانتیاں ثابت ہو گئیں۔آخر وہ انتہائی ذلت دکھ اور بیماری کی حالت میں ۹؍مارچ ۱۹۰۷ء کی صبح کو مر گیا۔اس کی موت سے چند دن پہلے ’’ہاربرزویکلی‘‘ (Harbour`s Weekly) نے اس کے آخری دنوں کی تصویر یوں کھینچی۔’’ قدرت نے اس پر سے ترقی کے پنڈولم کو واپس گھما دیا ہے۔اور وہ اپنے آپ پر قدرت سے بھی محروم ہو چکا ہے۔شکاگو سے آمدہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شخص جو اس قدر لمبے عرصہ تک اتنی بیباکی کے ساتھ اپنے آپ کو ایلیاء سوم کہتا رہا۔اب بے بسی کے ساتھ اپنے بسترمرگ پر پڑا ہے۔وہ اس بات کے بالکل ناقابل ہے کہ اپنے آپ کو اِدھر سے اُدھر بھی ہلا سکے اور اس پر مجبور ہے کہ جہاں کہیں اس کا نیگرو نوکر اس کو ڈال دے وہاں پڑا رہے۔‘‘ (عبرتناک انجام صفحہ ۹۳) رسالہ ’’انڈی پنڈنٹ‘‘ نے ۱۴؍مارچ ۱۹۰۷ء کی اشاعت میں اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا۔’’ وہ (ڈوئی) اپنی مذہبی اور مالی طاقت میں آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے کمال تک پہنچا۔مگر پھر یک لخت نیچے آگرا۔اس حال میں اس کی بیوی۔اس کا لڑکا۔اس کا چرچ سب اس کو چھوڑ چکے تھے۔اس نے