مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 319
خطوط شائع ہوئے جو اس نے اپنے باپ ’’جان مرے ڈوئی‘‘ کو اپنی ناجائز ولادت کے بارے میں لکھے تھے جب ملک میں اس کا عام چرچا ہونے لگا۔تو خود ڈوئی نے ۲۵؍ستمبر ۱۹۰۴ء کو اعلان کیا کہ وہ چونکہ ڈوئی کا بیٹا نہیں اس لئے ڈوئی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔(رسالہ انڈی پنڈنٹ ۱۹؍اپریل ۱۹۰۶ء بحوالہ الیگزنڈر ڈوئی کا عبرتناک انجام صفحہ ۵۲تا۵۷) (۲) ایک موقع پر جبکہ اس نے اپنا اثرورسوخ تمام امریکہ میں پھیلانے کے لئے نیویارک میں متواتر دو ہفتے جلسے کرنے کا ارادہ کیا اور لاکھوں ڈالر کے خرچ سے اس کا انتظام کیا گیا۔ڈوئی ایک مسحورکن مقرر کی شہرت رکھتا تھا۔لیکن نیویارک میں جلسہ شروع کرتے وقت وہ کوئی مؤثر تقریر نہ کر سکا اور لوگ جلسہ سے باہر جانے شروع ہو گئے وہ بہت چلاّیا کہ بیٹھ جائو لیکن کسی نے نہ سنی اور جلسے سخت ناکام ہو گئے۔چنانچہ نیویارک امریکن نے اپنی اشاعت ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۳ء میں لکھا:۔’’نیویارک ایلیا کے لئے واٹر لو کا میدان بن گیا۔‘‘ (۳) یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو ڈوئی دنیا کے سفر پرروانہ ہوا تاکہ آسٹریلیااور یورپ میں کامیابی حاصل کرے۔مگر اس نے اپنی تقریروں میں بعض ایسی باتیں کہیں جن کی وجہ سے وہ آسٹریلیا میں ناکام ہو گیا اورانگلستان میں اس کو جگہ دینے سے انکار کر دیا گیا۔آخر اسے وہاں سے واپس آنا پڑا۔واپسی پر اپنے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی ہمراہ لایا۔جس پر لوگوں کو اعتراض ہوا۔پہلے تو اس نے تعدد ازدواج کی خوبی بیان کر کے اپنے پر سے الزام ہٹانے کی کوشش کی۔مگر مرید اس کی طرف مائل نہ ہوئے۔تب اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تاکہ اس دوشیزہ کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔بیوی اور بیٹا طلاق کی وجہ سے اس سے الگ ہو گئے۔(۴) ستمبر۱۹۰۵ء کی آخری اتوار کو ڈوئی نے صیحون میں ایک غیر معمولی جلسہ کا انتظام کیا اس تقریب کے خاتمہ پر چند افتتاحی الفاظ کہنے کے لئے ڈوئی جب سامنے آیا تو عین اُس وقت اُس پر فالج گرا اور وہ گرنے ہی لگا تھا کہ اُس کے دو مرید اسے سہارا دے کر گھسیٹتے ہوئے اُسے ہال سے باہر لے گئے۔فالج کے اس شدید حملے کے ابھی اثرات چل ہی رہے تھے کہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۵ء کو اس پر دوبارہ فالج گرا۔آخر مجبور ہو کر اسے صیحون سے نکلنا پڑا اور علاج اور صحت کے لئے گرم علاقہ جزیرہ کی طرف چلا گیا۔