مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 308

غرض وید کے یہ چار دیوتے یعنی اکاش۔سورج۔چاند۔دھرتی۔خدا کے عرش کو جو صفت ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالک یوم الدین ہے اٹھارہے ہیں۔اور فرشتہ کا لفظ قرآن شریف میں عام ہے ہر ایک چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کا فرشتہ ہے۔پس دنیا کا ذرّہ ذرّہ خدا کا فرشتہ ہے کیونکہ وہ اس کی آواز سنتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اگر ذرّہ ذرّہ اُس کی آواز سُنتا نہیں تو خدا نے زمین آسمان کے اجرام کو کس طرح پیدا کرلیا۔اور یہ استعارہ جو ہم نے بیان کیا ہے اس طرح خدا کے کلام میں بہت سے استعارات ہیں جو نہایت لطیف علم اور حکمت پر مشتمل ہیں۔اگر اب بھی کوئی شخص اپنی ناسمجھی سے باز نہ آوے تو وہ کوئی اعتراض منتخب کرکے اسلام پر پیش کرے اور پھر انسانیت اور تحمل سے اس کا جواب سُنے۔ورنہ ایسے اعتراضات سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ معترض حقیقت سے بے خبر اور دل اس کا تعصب سے پُر اور غرض اس کی محض تحقیر ہے۔دین ایک علم ہے اور اپنے اندر اسرار رکھتا ہے۔کیا لازم ہے کہ اس طرح پر افترا کے طور پر اعتراض کئے جائیں ورنہ مسلمان بوجہ اولیٰ کہہ سکتے ہیں کہ جن خداؤں کو وید نے پیش کیا ہے وہ تو یہی ہیں کہ سورج۔چاند۔آگ۔پانی زمین وغیرہ مخلوق چیزیں یہ سب محدود اور مخلوق اور بے جان ہیں۔اس لئے آریہ صاحبوں کا پرمیشر نہ صرف محدود بلکہ بے جان چیز ہے اسی لئے ان کی آواز نہیں سُن سکتااور نہ جواب دے سکتا ہے۔پھر جس پرمیشر نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا اس کا محدود ہونا تو بہرحال ماننا پڑے گا کیونکہ اس طرح پر سمجھ لوکہ روحوںاورپرمانواورپرمیشرسے گویاایک شہر آبادہے۔جس کے ایک محلہ میں تو اَرواح یعنی جیو رہتے ہیں اور دوسرے محلہ میں پرمانو یعنی ذرّاتِ اجسام رہتے ہیں اور تیسرے محلہ کے کونے میں پرمیشر رہتا ہے کیونکہ جو چیزیں انادی اور اپنا اپنا وجود مستقل رکھتی ہیں ان میں پرمیشر دھنس نہیں سکتا۔کیا تم سرب بیاپک ہو سکتے ہو۔پس سوچ کر دیکھو کہ انادی اور غیر مخلوق ہونے کی حیثیت سے تم میں اور پرمیشر میں کیا فرق ہے پس وہ کیونکر غیر میں دھنس جائے گا۔پس خواہ مخواہ تمہاراپرمیشر محدود ہوگیا اور بوجہ محدود ہونے کے علم بھی محدود ہوگیا مگر اس خدا کو کون محدود کہہ سکتا ہے جس کو قرآن شریف نے پیش کیا ہے جس کی نسبت وہ کہتا ہے کہ ہر ایک جان کی وہی جان ہے۔