مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 307

جم لکھا ہے مگر اس جگہ فرشتوں سے یہ چار دیوتے مراد ہیں یعنی اکاش اور سورج وغیرہ جو خدا تعالیٰ کی چار صفتوں کو اٹھا رہے ہیں۔یہ وہی صفتیں ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا گیا ہے۔اس فلسفہ کا وید کو بھی اقرار ہے مگر یہ لوگ خوب وید دان ہیں جو اپنے گھر کے مسئلہ سے بھی انکار کررہے ہیں۔چار دیوتاؤں کی طرف منسوب کرتے تھے۔اسی بناپر نوح کی قو م کے بھی چار ہی دیوتا تھے اور انہیں صفات کے لحاظ سے عرب کے بت پرستوں نے بھی لات۔منات و عزیٰ اور ہبل بنا رکھے تھے۔ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چار دیوتا بالارادہ دنیا میں اپنے اپنے رنگوں میں پرورش کررہے ہیں اور ہمارے شفیع ہیں اور ہمیں خدا تک بھی یہی پہنچاتے ہیں۔چنانچہ یہ مطلب آیت لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى (الزّمر:۴) سے ظاہر ہے۔اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں وید بھی ان چاروں دیوتاؤں کی مَہما اور اُستت کی ترغیب دیتا ہے اور وید میں اگرچہ اور دیوتاؤں کا بھی ذکر ہے لیکن اصولی دیوتے جن سے اور سب دیوتے پیدا ہوئے ہیں یا یوں کہو کہ ان کی شاخ ہیں وہ چار ہی ہیں کیونکہ کام بھی چار ہی ہیں۔پس قرآن شریف کی پہلی غرض یہی تھی کہ وید وغیرہ مذاہب کے دیوتاؤں کو نیست و نابود کرے اور ظاہر کرے کہ یہ لوگوں کی غلطیاں ہیں کہ اور اور چیزوں کو دیوتا یعنی رَبُّ النَّوع بنا رکھا تھا بلکہ یہ چار صفتیں خاص خدا تعالیٰ کی ہیں اور ان چار صفتوں کے عرش کو خادموں اور نوکروں کی طرح یہ بیجان دیوتے اُٹھا رہے ہیں چنانچہ کسی نے کہا ہے؎ حمد را باتو نسبتے است درست بر در ہر کہ رفت بردرتست پس یہ اعتراض کہ جو آریہ صاحبان ہمیشہ سے کرتے ہیں یہ تو درحقیقت ان کے ویدوں پر اعتراض ہے کیونکہ مسلمان تو اس خدا کی پرستش کرتے ہیں جو مخدوم ہے مگرآریہ صاحبان ان جھوٹے دیوتاؤں کو خدا سمجھ رہے ہیں جو خادموں اور نوکروں چاکروں کی طرح خدا تعالیٰ کی صفاتِ اربعہ کا عرش اپنے سر پر اٹھا رہے ہیں بلکہ وہ تو چاکروں کے بھی چاکر ہیں کیونکہ ان پر اور طاقتیں بھی مسلّط ہیں جو ملائک کے نام سے موسوم ہیں جو ان دیوتاؤں کی طاقتوں کو قائم رکھتے ہیں جن میں سے زبانِ شرع میں کسی کو جبرئیل کہتے ہیں اور کسی کو میکائیل اور کسی کو عزرائیل اور کسی کو اسرافیل اور سناتن دھرم والے اس قسم کے ملائک کے بھی قائل ہیں اور ان کا نام جَم رکھتے ہیں۔ترجمہ شعر۔ہر قسم کی تعریف کو تیرے ساتھ پختہ تعلق ہے کوئی کسی کے دروازہ پر بھی جائے تیرے ہی دروازہ پر ہے۔