مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 306

اس کی جبروت اورعظمت کا اتم مظہر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا جاتا ہے اٹھارہے ہیں یعنی عالم پر یہ ظاہر کررہے ہیں تصریح کی حاجت نہیں۔اس بیان کو ہم مفصل لکھ آئے ہیں اور قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں۔(۱) ذراتِ اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں۔(۲) اکاش۔سورج۔چاند۔زمین کی قوتیں جو کام کررہی ہیں۔(۳) ان سب پر اعلیٰ طاقتیں جو جبرائیل ومیکائیل و عزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں (بقیہ حاشیہ) پس وہ ان چار صفتوں کو دنیا میں پھیلاتے ہیں گویا اس روحانی تخت کو اٹھارہے ہیں۔بُت پرستوں کا جیسا کہ وید سے ظاہر ہے صاف طور پر یہ خیال تھا کہ یہ چار صفتیں مستقل طور پر دیوتاؤں کو حاصل ہیں۔اسی وجہ سے ویدمیں جابجا ان کی اُستت اور مَہما کی گئی اور ان سے مرادیں مانگی گئیں۔پس خدا تعالیٰ نے استعارہ کے طور پر سمجھایا کہ یہ چار دیوتا جن کو بت پرست اپنا معبود قرار دیتے ہیں یہ مخدوم نہیں ہیں بلکہ یہ چاروں خادم ہیں اور خدا تعالیٰ کے عرش کو اٹھارہے ہیں یعنی خادموں کی طرح ان الٰہی صفات کو اپنے آئینوں میں ظاہر کررہے ہیں اور عرش سے مراد لوازم صفات تخت نشینی ہیں جیسا کہ ابھی مَیں نے بیان کر دیا ہے۔ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ ربّ کے معنے دیوتا ہے۔پس قرآن شریف پہلے اسی سورۃ سے شروع ہوا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی وہ تمام مَہما اور اُستت اُس خدا کی چاہئے جو تمام عالموں کا دیوتا ہے۔وہی ہے جو ربُّ العٰلَمِیْنَ ہے اور رَحْمٰنُ العٰلَمِیْن ہے اور رَحِیْمُ الْعٰلَمِیْنَ ہے۔اور مالک جزاء العالمین ہے۔اس کے برابر اور کوئی دیوتا نہیں کیونکہ قرآن شریف کے زمانہ میں دیوتا پرستی بہت شائع تھی اور یونانی ہر ایک دیوتے کا نام رَبُّ النَّوع رکھتے تھے اور رَبُّ النَّوع کا لفظ آریہ ورت میں دیوتا کے نام سے موسوم تھا اس لئے پہلے خدا کا کلام ان جھوٹے دیوتاؤں کی طرف ہی متوجہ ہوا جیسا کہ اس نے فرمایا۔اَ لْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی وہ جو سب عالموں کا دیوتا ہے نہ صرف ایک یا دو عالم کا اسی کی پرستش اور حمدو ثنا چاہئے۔دوسروں کی مَہما اور اُ ستت کرنا غلطی ہے۔اس صورت میں جو صفتیں بُت پرستوں نے چار دیوتاؤں کے لئے مقرر کررکھی تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان سب کو اپنی ذات میں جمع کردیا ہے اور صرف اپنی ذات کو ان صفات کا منبع ظاہر فرمایا بُت پرست قدیم سے یہ بھی خیال کرتے تھے کہ خدا کی اصولی صفات یعنی جو اصل جڑ تمام صفات کی ہیں وہ صرف چار ہیں۔پیدا کرنا پھر مناسب حال سامان عطا کرنا۔پھر ترقی کے لئے عمل کرنے والوں کی مدد کرنا پھر آخر میں جزاسزا دینا اور وہ ان چار صفات کو